امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump)کی جانب سے ایران کی سات روزہ جنگ بندی کی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد امریکی انتظامیہ نے تہران پر اقتصادی اور سفارتی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے۔ امریکی وزیرِ خزانہ اسکاٹ بیسینٹ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ واشنگٹن ایرانی حکومت پر مالیاتی اور ہوابازی کے شعبوں کے ذریعے دباؤ مسلسل بڑھا رہا ہے۔
اسکاٹ بیسینٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر بتایا کہ ان کی ہدایت پر امریکی وفود نے دنیا کے مختلف ممالک کا دورہ کیا تا کہ دیگر حکومتوں کو بھی ایران کے خلاف سخت اقدامات پر آمادہ کیا جا سکے اور ان کی ان کوششوں کے مثبت نتائج بھی سامنے آئے ہیں۔
امریکی پابندیوں اور ثانوی اقدامات کے خدشات کے پیشِ نظر متعدد بین الاقوامی ممالک اور ایئرلائنز نے ایرانی پروازوں پر پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
Following the launch of Operation Economic Outcast, @USTreasury imposed targeted financial measures against banks and aviation service providers. At my direction, teams were dispatched across the globe to engage with countries and demand action against the Iranian regime.
These…
— Treasury Secretary Scott Bessent (@SecScottBessent) September 26, 2026
امریکی وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور عمان نے ایرانی فضائی کمپنی ماہان ایئر کی پروازیں معطل کر دی ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات نے تمام ایرانی ایئرلائنز کا آپریشن روک دیا ہے۔ اس کے علاوہ عراق، آذربائیجان اور جارجیا جیسے ممالک نے بھی ایرانی طیاروں کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجازت معطل کر دی ہے، جس کی وجہ سے ایران کا بین الاقوامی فضائی رابطہ اور سفر شدید متاثر ہوا ہے۔
مزیدپڑھیں:جسم کو پانی کی کتنی ضرورت ہے؟ حساب لگانے کا طریقہ
اس سخت معاشی ناکہ بندی کے باعث ایرانی کرنسی ریال کی قدر تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔
اسکاٹ بیسینٹ نے کہا کہ ہم اپنی کوششیں جاری رکھیں گے کیونکہ تہران کو اس کے ایجنڈے پر عمل درآمد سے روکنے کے لیے ابھی مزید اقدامات کرنا باقی ہیں۔
دوسری طرف ایران ان پابندیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے تاکہ اپنے معاشی نقصانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے امریکی پابندیوں کے شدید اثرات کا اعتراف تو کیا لیکن تہران کے پختہ عزم کا اظہار بھی کیا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ پابندیاں صرف ایرانی عوام کی مزاحمت میں اضافہ کریں گی، ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے اور نہ ہی کبھی گھٹنے ٹیکیں گے۔









