بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی مارکیٹ میں پیر کے روز تیل کی قیمتوں(Crude Oil) میں ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کی پیشکش مسترد کیے جانے کے بعد خطے میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات میں اضافہ ہوا۔

برینٹ خام تیل کے ستمبر کنٹریکٹس کی قیمت 1.32 ڈالر یا 1.27 فیصد اضافے سے 105.64 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) کی قیمت 70 سینٹ یا 0.76 فیصد بڑھ کر 93.11 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی۔

ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی اور کہا تھا کہ قطری ثالثوں کے ذریعے یہ تجویز امریکی حکام تک پہنچائی گئی۔ تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز یہ تجویز مسترد کرنے کا اعلان کیا، البتہ اتوار کو ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکی مذاکرات کار رواں ہفتے مزید بات چیت میں حصہ لے سکتے ہیں۔

مزیدپڑھیں:عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں کمی

اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں جغرافیائی سیاسی خطرات بدستور بلند ہیں، کیونکہ حوثیوں اور ایران کے سعودی عرب پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے، جس سے مشرق وسطیٰ سے عالمی منڈیوں کو تیل کی رسد متاثر ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

دریں اثنا، کےپلر کے ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق مشرق وسطیٰ کے اہم تیل پیدا کرنے والے ممالک کی خام تیل برآمدات ستمبر میں بڑھ کر ایک کروڑ 28 لاکھ بیرل یومیہ ہوگئی ہیں، جو فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد بلند ترین سطح ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل بھی بحال ہوئی ہے اور رواں ماہ اس راستے سے تقریباً 74 لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ترسیل متوقع ہے۔

سعودی عرب نے ایسٹ ویسٹ پائپ لائن کو پہنچنے والے نقصان کے بعد اپنی کچھ تیل برآمدات یانبع بندرگاہ سے راس تنورہ منتقل کردی ہیں۔