بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امیر مقام کا وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے خلاف وائٹ پیپر لانے کا اعلان

وفاقی وزیر امور کشمیر انجینئر امیر مقام(Amir Muqam) نے کہا ہے کہ بہت جلد وائٹ پیپر لائیں گے، جس میں تمام حقیقت سامنے رکھیں گے۔

پشاور پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ تبدیلی سرکار نے خیبرپختونخوا میں صرف وزیراعلیٰ بدلے، عوام کی قسمت نہیں بدلی، موجودہ صوبائی حکومت لوٹ مار میں ملوث ہے، خیبر پختونخوا کے موجودہ حالات سے ہر کوئی واقف ہے، صوبے کے عوام ایک عرصے سے دہشت گردی کا سامنا کر رہے ہیں اور صوبے کے مسائل کے حل کے لیے آل پارٹیز کانفرنس ہونی چاہیے۔

وفاقی وزیر امور کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ میں امتِ مسلمہ کی بھرپور نمائندگی کی، خیبر پختونخوا میں بہتری یا خرابی کا اثر پورے ملک پر مرتب ہوتا ہے، جبکہ اے پی ایس کا سانحہ پوری دنیا کو یاد ہے، پاکستان تحریک انصاف گزشتہ 13 سال سے عوامی مینڈیٹ کے تحت خیبر پختونخوا میں حکومت کر رہی ہے، وزرائے اعلیٰ تبدیل ہوتے رہے لیکن کوئی خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں ہوا۔

امیر مقام نے کہا کہ پورا پاکستان دیکھ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف کتنی قربانیاں دے رہے ہیں، انہوں نے صحت کارڈ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کا بھی ذکر کیا، جب وہ اپوزیشن میں تھے تب بھی ملکی مسائل پر بات کرنے کا مطالبہ کرتے رہے اور آج بھی حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی عدالتوں کا معاملہ ہے اور اس کا فیصلہ عدالتیں ہی کریں گی۔

مزیدپڑھیں:ورلڈ چیس اولمپیاڈ: پاکستان نے کیٹیگری ڈی میں گولڈ میڈل جیت لیا

وفاقی وزیر امور کا کہنا تھا کہ وفاق سے اربوں روپے حاصل کرنے کے بعد یہ سوال کیا جانا چاہیے کہ خیبر پختونخوا میں عوام کی فلاح و بہبود کے لیے کیا اقدامات کیے گئے اور دہشت گردی کے خلاف کیا حکمتِ عملی اختیار کی گئی۔

انہوں نے سہیل آفریدی کے حامیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بھی مبینہ غیرقانونی اقدامات کا حساب دینا ہوگا، صوبے کے مسائل کے حوالے سے آل پارٹیز کانفرنس بلائی جانی چاہیے تاکہ تمام سیاسی جماعتیں مل کر مسائل کے حل پر بات کریں۔

امیر مقام نے کہا کہ اگر 4 تاریخ کو لانگ مارچ کیا گیا تو راستے دوبارہ بند کیے جائیں گے، ماضی میں بھی احتجاج کے لیے نکلنے والے بعض رہنما غائب ہوئے، تاہم اس حوالے سے انہوں نے کوئی مزید تفصیل فراہم نہیں کی۔