سرکاری ذرائع نے افغان طالبان(afghan taliban) کی جانب سے پاکستان پر دراندازی کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کنڑ اور نورستان میں ہلاک یا گرفتار افغان باشندوں کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ اس حوالے سے ’فالس فلیگ‘ ڈرامہ رچانے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق افغان طالبان رجیم اپنے مبینہ ’ماسٹر ہینڈلر‘ بھارت اور بھارتی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستان پر دراندازی کا الزام لگانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ رائٹرز نے افغان وزارت دفاع کی جانب سے پیش کیے گئے مؤقف کو کسی آزادانہ ثبوت یا صحافتی تحقیق کے بغیر خبر کا حصہ بنا دیا۔
سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ تھوڑی سی تحقیق اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے سے ہی اس معاملے پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔ افغان طالبان کے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری تصاویر میں ہلاک ہونے والے افراد مقامی افغان باشندے دکھائی دیتے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تصاویر میں ہلاک افراد کے لباس بھی سوالات کو جنم دیتے ہیں، کیونکہ کنڑ اور نورستان میں موجودہ سخت سرد موسم کے باوجود ان افراد کے پاس گرم کپڑے موجود نہیں تھے۔ سرکاری ذرائع نے امکان ظاہر کیا کہ یہ افراد پہلے سے قید ہو سکتے تھے جنہیں مبینہ طور پر قتل کرکے واقعے کو مختلف انداز میں پیش کیا گیا، تاہم اس دعوے کے حق میں آزادانہ ثبوت پیش نہیں کیے گئے۔
ذرائع نے کہا کہ یہ افراد افغان طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے عام شہری بھی ہوسکتے ہیں، تاہم اگر ہلاک شدگان میں پاکستانی شہری شامل تھے تو ان کی شناخت اور پاکستانی شہریت کا ثبوت سامنے آنا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:ڈی آئی خان حملہ، 70 فیصد دہشت گرد افغانستان کے رہائشی ہوتے ہیں: طلال چوہدری
سرکاری ذرائع نے سوال اٹھایا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گردوں کی دراندازی کے مبینہ شواہد اور ٹی ٹی پی و بی ایل اے کے افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے متعلق رپورٹس کو بھی اسی شدت سے کیوں نہیں اجاگر کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام ٹی ٹی پی کے دہشت گرد حملوں میں مبینہ طور پر ملوث 260 افغان شہریوں کے نام اور پتے بھی فراہم کرچکے ہیں۔
ذرائع نے مزید دعویٰ کیا کہ افغان طالبان کمانڈروں کی ٹی ٹی پی جنگجوؤں کے جنازوں میں شرکت کے شواہد بھی سامنے آچکے ہیں، تاہم ان معاملات کو رائٹرز کی جانب سے نظر انداز کیے جانے کا الزام عائد کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق 2026 میں افغان سرحد سے آنے والے دہشت گردوں کے حملوں میں ایک ہزار 327 پاکستانی جاں بحق اور 2 ہزار 484 زخمی ہوئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بڑے انسانی نقصان کو بھی عالمی میڈیا میں وہ اہمیت نہیں دی گئی جس کا یہ معاملہ متقاضی تھا۔
ذرائع نے دعویٰ کیا کہ افغان طالبان حکومت خود جولائی سے بدخشان، نورستان اور کنڑ میں اندرونی لڑائی کا اعتراف کرچکی ہے۔ ان کے مطابق خطے میں جمعہ خان، قیوم ملنگ، اے ایف ایف، این آر ایف، اے یو ایف اور داعش سمیت مختلف مسلح گروہ بھی سرگرم ہیں۔
سرکاری ذرائع نے کہا کہ نورستان اور کنڑ میں جاری تنازعات کے پس پردہ معدنیات اور قدرتی وسائل کے استحصال سمیت مختلف عوامل کا ذکر کیا جاتا رہا ہے، تاہم اس پہلو کو بھی خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی۔
ذرائع نے الزام عائد کیا کہ پاکستان کے خلاف بھارتی ’فالس فلیگ‘ بیانیے کی طرح افغان طالبان کی جانب سے بھی پاکستان پر الزامات عائد کیے جا رہے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ اور غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق واضح ہوسکیں۔
افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی شناخت ظاہر کرنے کے لیے گرفتار یا ہلاک افراد کو پاکستانی لباس پہنانے کے مبینہ اقدام نے کئی سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو یہ نہ صرف گمراہ کن پروپیگنڈا بلکہ بے گناہ افراد کو پاکستان سے جوڑ کر بدنام کرنے کی ایک سنگین کوشش بھی ہے۔
یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ ماضی میں کتنے افراد کو اسی انداز میں پاکستانی ظاہر کرکے ہلاک یا پیش کیا گیا اور ان کی اصل شناخت کیا تھی؟ ایسے معاملات کی غیر جانب دارانہ اور قابلِ اعتماد تحقیقات ہونی چاہئیں، محض افغان حکام کے دعووں کو حتمی حقیقت کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔
مزید حیران کن امر یہ ہے کہ جن افراد کو مبینہ طور پر پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے، ان کا لباس اور حلیہ بظاہر اس بات پر بھی سوال اٹھاتا ہے کہ کیا انہیں باقاعدہ طور پر تیار کرکے محاذ پر بھیجا گیا تھا۔
دوسری جانب، پاکستان مسلسل افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی اور پاکستان مخالف عناصر کی موجودگی کی نشاندہی کرتا رہا ہے۔ حالیہ واقعات میں بھی پاکستان نے افغانستان میں موجود عسکریت پسندوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں کی ہیں۔
ایسے ماحول میں بین الاقوامی میڈیا، خصوصاً Reuters، کے لئے شرم کا مقام ہے کہ وہ کسی ایک فریق کے دعوے کو محض نقل کرنے کی بجائے تمام متعلقہ شواہد، فریقین کا مؤقف اور دستیاب پس منظر سامنے رکھے۔ اگر پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے نام، مقامات اور روابط کے حوالے سے شواہد فراہم کیے گئے ہیں تو ان کی بھی اسی معیار اور توجہ کے ساتھ جانچ اور رپورٹنگ ہونی چاہیے۔









