لاہور ہائیکورٹ نے کیمرے لگی عینکوں پر پابندی لگانے سے متعلق درخواست پر پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وزارت کامرس، وزارت اطلاعات اور این سی سی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا۔
چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے نادرہ بی بی کی درخواست پر سماعت کی،درخواست گزار کی طرف سے شہرام ساقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ مارکیٹ میں بڑی بڑی شاپ اور سپر سٹور پر کیمرے لگی عینکیں فروخت ہو رہی ہیں،ان گلاسز سے ہر قسم کی سیکرٹ ریکارڈنگ ممکن ہے،یہ عینکیں سکیورٹی رسک ہیں۔
درخواست میں مزید موقف اختیار کیا گیا کہ ان کیمرہ لگی عینکوں کی فروخت کے لئے کسی حکومتی ادارے سے منظوری نہیں لی گئی،عدالت ان سکیورٹی رسک عینکوں کی فروخت پر فوری پابندی کا حکم اور ذمہ دار اداروں سے اس بابت وضاحت طلب کرے۔بعدازاں عدالت نے درخواست پر سماعت 8 اکتوبر2026 تک ملتوی کر دی۔
کیمرے والی عینکیں کیسے کام کرتی ہیں؟
عینک کے فریم کے سامنے یا کنارے پر ایک چھوٹا کیمرہ نصب ہوتا ہے۔ صارف بٹن دباکر یا مخصوص وائس کمانڈ کے ذریعے تصویر یا ویڈیو بنا سکتا ہے۔ بعض جدید ماڈلز میں فون سے کنکشن کے لیے Bluetooth اور Wi-Fi بھی موجود ہوتے ہیں۔
عام طور پر ان میں یہ خصوصیات ہوسکتی ہیں:
کیمرے والی اسمارٹ عینکوں میں تصاویر اور ویڈیوز بنانے کے ساتھ آواز ریکارڈ کرنے کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے جبکہ ان کے اسپیکرز کے ذریعے آڈیو اور موسیقی سنی جا سکتی ہے۔
یہ عینکیں موبائل فون سے منسلک ہو کر فون کالز کرنے اور دیگر اسمارٹ فیچرز استعمال کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں، جبکہ بعض ماڈلز انٹرنیٹ سے منسلک ہو کر مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے صارف کے سوالات کے جواب دینے، اردگرد موجود اشیا کی شناخت کرنے اور معلومات فراہم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
کچھ جدید ماڈلز میں نیویگیشن سمیت دیگر سہولیات بھی شامل کی گئی ہیں، جس کے باعث یہ عینکیں محض چشمہ نہیں بلکہ ایک مکمل اسمارٹ ویئرایبل ڈیوائس کے طور پر استعمال کی جا سکتی ہیں۔
کیا عینک خود ویڈیو محفوظ کرتی ہے؟
یہ ماڈل پر منحصر ہے۔ کچھ کیمرہ گلاسز میں اندرونی اسٹوریج ہوتی ہے، جبکہ کچھ میں ریکارڈنگ کے لیے اسمارٹ فون سے کنکشن ضروری ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر Ray-Ban Meta جیسی اسمارٹ عینکیں فون ایپ کے ساتھ استعمال ہوتی ہیں اور کیمرے سے بنائی گئی تصاویر یا ویڈیوز فون میں منتقل کی جاسکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:کیمرے لگی عینکوں کا معاملہ عدالت پہنچ گیا،فوری پابندی کا مطالبہ
کیا پہننے والے کو پتا چلتا ہے کہ ویڈیو بن رہی ہے؟
بہت سے جدید ماڈلز میں ریکارڈنگ کے وقت LED indicator روشن ہوتا ہے تاکہ سامنے موجود افراد کو معلوم ہو سکے کہ کیمرہ استعمال ہو رہا ہے۔ تاہم، مختلف مصنوعات میں یہ طریقہ مختلف ہوسکتا ہے۔









