اسلام آباد: خیبر پختونخوا میں بگڑتی سکیورٹی صورتحال اور حکام کے مطابق دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سکیورٹی فورسز (Security Forces)کو درکار سیاسی و انتظامی تعاون فراہم کرنے میں صوبائی حکومت کی ناکامی پر وفاقی سطح پر شدید تحفظات سامنے آئے ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق، خیبر پختونخوا کی صورتحال بالخصوص صوبے میں جاری دہشت گردی کی لہر اور پی ٹی آئی کی زیر قیادت صوبائی حکومت اور وفاقی حکومت کے درمیان بڑھتی سیاسی محاذ آرائی کے تناظر میں اب وفاقی حکام کیلئے خاصی تشویش کا باعث بن چکی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے یہ تشویش محض امن عامہ کی صورتحال تک محدود نہیں، سرکاری حلقوں میں سکیورٹی اداروں، بشمول مسلح افواج، کے ساتھ بڑھتی سیاسی محاذ آرائی اور ایسے سیاسی بیانیوں کے ابھرنے پر بھی تشویش پائی جاتی ہے جن کے بارے میں حکام کا خیال ہے کہ یہ ایسے وقت میں سکیورٹی فورسز کے کردار کو مسلسل نشانہ بنا رہے یا کمزور کر رہے ہیں جب صوبہ ایک سنگین عسکریت پسند خطرے سے دوچار ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس پس منظر میں پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت کے مستقبل کا سوال وفاقی سطح پر تیزی سے زیر بحث آ رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مختلف آئینی اور سیاسی آپشنز زیر غور ہیں، تاہم ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
سرکاری حلقوں میں زیر بحث آئینی دفعات میں سے ایک آرٹیکل 232 ہے، جو اس صورت میں ہنگامی حالت کے نفاذ کی گنجائش فراہم کرتا ہے جب جنگ، بیرونی جارحیت یا صوبائی داخلی خلفشار صوبائی حکومت کے کنٹرول سے باہر ہو اور اس وجہ سے ملک یا اس کے کسی حصے کی سلامتی کو خطرہ لاحق ہو۔ تاہم آئین میں آرٹیکل 234 بھی موجود ہے جو خاص طور پر ایسی صورتحال سے متعلق ہے جب کسی صوبے کی حکومت آئین کے مطابق نہیں چلائی جا سکتی۔
مزیدپڑھیں:گورنر راج لگانے کیلئے جتنے عناصر درکار ہوتے ہیں وہ کے پی حکومت مہیا کر چکی: اختیار ولی
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ چند روز خیبر پختونخوا کی صورتحال بالخصوص 4 اکتوبر کیلئے پی ٹی آئی کے اعلان کردہ سیاسی پروگرام کے پیش نظر وفاقی حکومت کے ردعمل کے تعین میں انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ آیا پی ٹی آئی کی قیادت اور خیبر پختونخوا حکومت سیاسی محاذ آرائی کم کرنے، قانون نافذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ تعاون بہتر بنانے اور یہ ثابت کرنے کیلئے اقدامات کر سکتی ہیں کہ صوبائی حکومت سکیورٹی بحران سے نمٹنے میں اس کردار کو ادا کرنے کیلئے تیار ہے جو اس سے متوقع ہے۔
حکام کو خاص طور پر اس بات پر تشویش ہے کہ ریاستی اداروں کیخلاف مسلسل تحریک، محاذ آرائی اور بیان بازی پہلے ہی نازک سکیورٹی ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ذرائع نے زور دیا کہ صورتحال اب بھی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور آئندہ چند روز یہ طے کر سکتے ہیں کہ آیا سیاسی کشیدگی میں کمی لائی جاتی ہے یا وفاقی حکومت زیر غور آئینی آپشنز میں سے کسی ایک کی جانب بڑھتی ہے۔ چنانچہ پی ٹی آئی کی زیر قیادت خیبر پختونخوا حکومت کیلئے 4 اکتوبر تک کا وقت خاص طور پر حساس مرحلے کے طور پر سامنے آ رہا ہے۔









