پشاور: خیبرپختونخوا میں دہشتگردی، امن و امان اور گورننس سے متعلق صحافی کے سخت سوالات پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو وضاحت دینا پڑی۔
صحافی نے سوال اٹھایا کہ صوبے میں لوگ جانیں گنوا رہے ہیں، ایسے میں بطور وزیراعلیٰ گڈ گورننس اور عوامی مسائل کا حل ان کی ذمہ داری ہے۔
صحافی نے سوال کیا کہ وسائل اور اختیارات تک رسائی کے مطالبات تو کیے جا رہے ہیں، تاہم صوبائی حکومت کی کارکردگی، گورننس اور عوامی مسائل کے حل پر بات کیوں نہیں کی جاتی۔ اس پر سہیل آفریدی نے کہا کہ صوبے کے عوام کو درپیش مسائل کے حل اور امن کے قیام کے لیے حکومت اپنا کردار ادا کر رہی ہے۔
“سر خیبرپختونخوا میں لوگ مر رہے ہیں” صوبے میں دہشتگردی اور خراب گورننس پر صحافی کے سخت سوالات پر سہیل آفریدی مشکل میں پڑ گئے، خاموشی چھا گئی،
ویڈیو دیکھیں۔@SohailAfridiISF @BarristerGohar @Sherazi_Silmian @PTIofficial pic.twitter.com/DWgcfxj0QF
— M News (@MNewsPak1) September 30, 2026
صحافی نے عمران خان اور پی ٹی آئی کے سابق دور حکومت میں طالبان کے خیبرپختونخوا آنے اور بسائے جانے سے متعلق سوال کیا تو وزیراعلیٰ نے اس تاثر کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو ان لوگوں کے نام بتائے جو طالبان کو لائے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کے دور میں نہ طالبان کو خیبرپختونخوا لایا گیا اور نہ بسایا گیا۔
مزید پڑھیں:آبنائے ہرمز میں 3 بحری جہازوں پر حملہ، صورتحال پھر کشیدہ، رپورٹ
سہیل آفریدی نے دہشتگردی اور امن و امان کی صورتحال پر حکومت کا مؤقف پیش کرتے ہوئے صوبے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کیا۔ حالیہ بیانات میں بھی وہ دہشتگردی کے خاتمے، پولیس اور سی ٹی ڈی کے کردار اور امن کے قیام کو ترجیح قرار دے چکے ہیں۔









