اسلام آباد(نیوزڈیسک) سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد نے دعویٰ کیا ہے کہ پی ٹی آئی کی فنڈنگ کیس میں (منگل کو) حیران کن فیصلہ سامنے آسکتاہے،الیکشن کمیشن اپنے فیصلے میں عمران خان کو نااہل ،پی ٹی آئی کی بطورسیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخ اور انتخابی نشان بھی واپس لے سکتا ہے،یہ اتنامضبوط فیصلہ ہوگاجسے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے لئے بھی تبدیل کرنامشکل ہوگا۔الیکشن کمیشن سے کیس کے فیصلے سے پلے اپنے ایک انٹرویومیں سابق سیکرٹری الیکشن کمیشن نے یہ دعوے کرتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی غیر ملکی کمپنی یا فرد جو کہ پاکستانی نہ ہو اس سے کوئی بھی سیاسی جماعت اگر پارٹی کے امور چلانے کے لیے فنڈز حاصل کرے تو یہ ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن ایکٹ 2017 کی شق 204 اس بارے میں بڑی واضح ہے ، اگر ایک ڈالر بھی ممنوعہ فنڈنگ کی مد میں آجائے تو الیکشن کمیشن کو یہ فنڈز ضبط کرنے کا اختیار ہے۔ کنور دلشاد کے مطابق الیکشن ایکٹ کی 204 سے 212 تک شقیں ممنوعہ فنڈنگ کے بارے میں ہی ہیں جبکہ الیکشن ایکٹ کی شق 215 اس بارے میں کہتی ہے کہ اگر کسی سیاسی جماعت کی ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو جائے تو الیکشن کمیشن کے پاس اس جماعت کا انتخابی نشان واپس لینے کا اختیار ہے جس کے بعد ایسی سیاسی جماعت جس پر ممنوعہ ذرائع سے حاصل کیے گئے فنڈز کا الزام ثابت ہو جائے تو اس جماعت کی رجسٹریشن بھی تحلیل ہو جاتی ہے۔انہوں نے کہاکہ اگر کوئی پاکستانی غیر ملک میں مقیم ہے اور وہ پاکستانی شہریت کو چھوڑ کر اس ملک کی شہریت اختیار کرچکا ہے، اگر وہ بھی پاکستان کی کسی سیاسی جماعت کو فنڈز دیتا ہے تو وہ بھی ممنوعہ فنڈنگ کے زمرے میں آتی ہے۔ کنور دلشاد کا کہنا ہے کہ اگر الیکشن کمیشن چاہے تو ایسی جماعت کو کالعدم قرار دلوانے کے لیے سپریم کورٹ کو ریفرنس بھجوا سکتا ہے۔انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن اپنے فیصلے میں عمران خان کو نااہل ،پی ٹی آئی کی بطورسیاسی جماعت رجسٹریشن منسوخ اور انتخابی نشان بھی واپس لے سکتا ہے،یہ اتنامضبوط فیصلہ ہوگاجسے سپریم کورٹ کے فل بنچ کے لئے بھی تبدیل کرنامشکل ہوگا۔
پی ٹی آئی کی فنڈنگ کیس میں حیران کن فیصلہ سامنے آسکتاہے،کنوردلشار








