بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وزیراعظم فیول سبسڈی سے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے بڑی خوشخبری آگئی

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات میں وزیراعظم کی فیول سبسڈی اسکیم (Fuel Subsidy)موجودہ صارفین تک محدود رکھنے پر اتفاق ہوگیا، تاہم عالمی مالیاتی ادارے نے پروگرام میں نئے صارفین شامل نہ کرنے کی شرط برقرار رکھی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان جاری بات چیت میں پٹرول اور ڈیزل پر عائد لیوی میں کمی کا معاملہ تاحال طے نہیں ہوسکا اور آئی ایم ایف اس میں کمی پر آمادہ نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف موجودہ صارفین کے لیے وزیراعظم فیول سبسڈی جاری رکھنے پر رضامند ہے، تاہم اس کا دائرہ مزید صارفین تک بڑھانے کی مخالفت کی گئی ہے۔

عالمی مالیاتی ادارے نے تجویز دی ہے کہ سبسڈی صرف موٹرسائیکلوں، تین پہیوں والی گاڑیوں اور 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں تک محدود رکھی جائے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف مشن کی وزارت پٹرولیم کے حکام سے دوبارہ ملاقات ہوگی، جس میں پاکستانی وفد کی قیادت وزیر پٹرولیم کریں گے۔ ملاقات کے دوران گیس کے ٹیرف اسٹرکچر، گیس سیکٹر کے گردشی قرضے اور دیگر متعلقہ معاملات کا جائزہ لیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل میں 10 اگست کو بانی پی ٹی آئی کے طبی معائنے کی رپورٹ سامنے آگئی

پاکستانی حکام اور آئی ایم ایف کے درمیان میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز (ایم ای ایف پی) کی تیاری پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ اس سلسلے میں مشن کے وزارت پٹرولیم اور پاور ڈویژن کے حکام سے مذاکرات ہو رہے ہیں، جبکہ وزارت خزانہ کے حکام سے بھی مزید بات چیت متوقع ہے۔

مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف کی جانب سے صوبوں کی رضامندی سے شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ بھی سامنے آیا ہے۔

تاہم سندھ حکومت نے وفاقی شوگر پالیسی پر اعتراض کرتے ہوئے اسے صوبائی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سندھ کے اختلاف کے باعث شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کرنے سے متعلق پالیسی کو ابھی تک حتمی شکل نہیں دی جاسکی۔