طبی دنیا میں ایک انتہائی اہم اور فکر انگیز تحقیق سامنے آئی ہے جس نے کینسر جیسی موذی مرض کی وجوہات پر نئی روشنی ڈالی ہے۔ بین الاقوامی طبی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی اس تحقیق کے مطابق، دنیا بھر میں کینسر کے کل کیسز کا تقریباً 12 فیصد حصہ (یعنی ہر آٹھ میں سے ایک کیس) ایسے انفیکشنز کی وجہ سے ہوتا ہے جن سے باآسانی بچاؤ یا علاج ممکن ہے۔
تفصیلی معلومات اور بنیادی محرکات:
سالانہ کیسز کی تعداد: نئی طبی تحقیق کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ لاکھوں نئے کینسر کے مریضوں کے پیچھے بنیادی وجہ مختلف اقسام کے وائرسز اور بیکٹیریا کی موجودگی تھی۔
اہم ترین جراثیم (H. pylori اور HPV): اس تحقیق کے مطابق کینسر کا سبب بننے والے انفیکشنز میں پیٹ کے امراض سے جڑا بیکٹیریاہیلیکوبیکٹریا ایچپائلوری (H. pylori) اورہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) سب سے نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
جگر اور دیگر کینسرز:
ہیپاٹائٹس بی اور سی سمیت کئی دیگر وائرسز بھی جسم میں داخل ہو کر طویل المعاد عرصے میں کینسر کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج:
رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ انفیکشنز کی وجہ سے ہونے والے کینسر کے تین چوتھائی سے زیادہ کیسز ترقی پذیر اور کم آمدنی والے خطوں میں سامنے آتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ صحت کی بنیادی سہولیات کا فقدان اور حفاظتی ٹیکوں یا ویکسینیشن تک رسائی کا محدود ہونا ہے۔
بچاؤ اور تدارک کی تدابیر:
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ان کینسرز کی جڑ میں وائرس یا بیکٹیریا جیسے انفیکشنز ہیں، اس لیے بروقت ویکسینیشن (بشمول ایچ پی وی اور ہیپاٹائٹس کی ویکسینز) اور صفائی ستھرائی کے اصولوں کو اپنا کر دنیا بھر میں کینسر کے بوجھ کو خاطر خواہ حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔









