وفاقی وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان انجینئر امیر مقام (Amir Muqam)نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے عوام کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کے مسائل پر توجہ دے اور انہیں حل کرے۔
اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے امیر مقام نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں دودھ اور شہد کی نہریں بنانے کے نعرے لگائے گئے، تاہم صوبے میں حکومتی مشینری کے استعمال کے باوجود عوامی مسائل برقرار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں بیوروکریسی کو بھی بے یار و مددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ روزانہ خیبر پختونخوا میں لوگوں کے شہید ہونے کی خبریں سننے کو ملتی ہیں، صوبائی حکومت کو چاہیے کہ وہ سیاست کے بجائے صوبے کے عوام کی بات کرے اور ان کے مسائل حل کرے۔
مزیدپڑھیں:آزاد کشمیر 8 اکتوبر زلزلہ: 21 برس بعد بھی بحالی نہ ہوسکی
امیر مقام کا کہنا تھا کہ بعض لوگ کارکردگی کی بنیاد پر حکومت میں نہیں آتے بلکہ کھوکھلے نعرے لگانا ان کا وطیرہ ہے۔ انہوں نے گورنر کی جانب سے ایک اجلاس بلانے پر ہونے والی تنقید پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر گورنر نے ایک میٹنگ بلا لی ہے تو اس پر تنقید کرکے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ بعض عناصر خیبر پختونخوا پولیس پر اپنی مرضی مسلط کرنا چاہتے ہیں۔
8 اکتوبر کے زلزلے کو بھی یاد کیا
امیر مقام نے 8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس ہولناک زلزلے میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ 8 اکتوبر 2005 کو وہ خود سوات میں موجود تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ زلزلے کے دوران امدادی کارروائیوں میں پوری دنیا نے پاکستان کی مدد کی، جسے آج بھی یاد رکھا جاتا ہے۔









