بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اہم اسلامی ملک کا چین سے جدید لڑاکا طیارے خریدنےکا فیصلہ

انڈونیشیا اپنی فضائیہ کے لیے چین میں تیار کردہ جے ٹین سی ای (J-10CE) لڑاکا طیاروں کی پہلی کھیپ آئندہ چھ ماہ کے اندر یعنی اپریل 2027 تک وصول کرنے کا منتظر ہے، جس کے بعد یہ جنوب مشرقی ایشیائی ملک پاکستان اور ازبکستان کے بعد اس جدید جنگی طیارے کا تیسرا بین الاقوامی آپریٹر بن جاتا ہے۔

انڈونیشیائی خبر رساں ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق جکارتہ نے گزشتہ سال اکتوبر میں ’ویگورس ڈریگن‘ کے نام سے مشہور ان ساڑھے چار جنریشن کے 42 لڑاکا طیاروں کے آرڈر کی تصدیق کی تھی، جس کے لیے 9 ارب امریکی ڈالر کا خطیر بجٹ منظور کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا جاتا ہے کہ اگرچہ پہلی کھیپ اپریل میں متوقع ہوتی ہے تاہم یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس دوران کتنے طیارے فراہم کیے جائیں گے۔

انڈونیشیائی ذرائع ابلاغ اور دفاعی حکام کے مطابق اس معاہدے کے تحت طیاروں کی فراہمی کے عمل کو تیزی سے آگے بڑھایا جا رہا ہے، جبکہ انڈونیشیا کے ایئر فورس چیف آف سٹاف مارشل محمد تونی ہارجلونو کی جانب سے عوام اور مبصرین کو اس معاملے میں تحمل سے کام لینے اور طیاروں کی آمد کا انتظار کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ ایک تاریخی موقع ہوتا ہے جب انڈونیشیا روایتی مغربی ممالک کے علاوہ کسی دوسرے ملک سے اتنی بڑی تعداد میں جدید جنگی طیارے حاصل کرتا ہے۔ اس سے قبل انڈونیشیا کے عسکری بیڑے میں امریکی ایف-16 اور روسی سخوئی طیارے شامل رہے ہیں، جبکہ فرانسیسی رافیل اور ترکی کے کاعان طیاروں کے معاہدے بھی اس عسکری بیڑے کا حصہ بنتے ہیں۔ چین سے ہونے والا یہ دفاعی سودا خطے میں انڈونیشیا کی فضائی اور دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرتا ہے۔