بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملک بھر میں پی ٹی آئی مرکزی قیادت کی گرفتاری، نظر بندیوں کی تیاریاں: ذرائع

وفاقی حکومت نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کیلئے ایکشن لینے کی تیاری پکڑ لی ہے اور سہیل آفریدی کے طرز عمل تبدیل نہ کرنے پر حکمت عملی بھی تیار کر لی گئی ۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کل حکمت عملی پر رفقاء سے مشاورت کریں گے جبکہ وفاقی حکومت کی مشاورت اور بریفنگ کے بعد کل اہم فیصلے متوقع ہیں ۔

ذرائع نے دعویٰ کیاہے کہ ملک بھر میں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو گرفتاریا نظر بند کرنے کی تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں، خیبرپختونخوامیں گورنر راج یا ایمرجنسی کی صورت میں سخت ایکشن متوقع ہے۔

خیبرپختونخوا میں پولیس اور بیورو کریسی کو متحرک کرنے کی حکمت عملی تیار کر لی گئی ہے ، احتجاج کیلئے باہر نکلنے والوں کیخلاف گرفتاریوں سمیت سخت قانونی کارروائی کا امکان ہے،احتجاج کو محدود کرنے کیلئے صوبائی انتظامیہ کو خصوصی ہدایات دیئے جانے کا امکان ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ رات مشاورتی اجلاس کے بعد سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے گریز کا مشورہ دیا، کہا ایمرجنسی یا گورنر راج سے حکومتی جماعتوں کو سیاسی نقصان ہوگا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان مذاکراتی ڈیڈلاک اور پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر تبادلہ خیال کیا گیا، مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے دوران گفتگو کہا کہ معاملات کےافہام و تفہیم سےحل کیلئے کردارادا کرنے کو تیار ہوں۔

وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کی سیاسی بصیرت اور احتجاجی تحریک سے دورر ہنے کے فیصلےکی تعریف کی، کہا وفاقی حکومت نے مذاکرات کے ذریعےمسائل حل کرنے کی بھرپور اور مخلصانہ کوشش کی مگر خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردی کیخلاف اقدامات میں تعاون سےانکارمذاکرات کی ناکامی کاباعث بنا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی سمجھوتہ نہیں ہوسکتا غفلت بھی قابل قبول نہیں۔

مزیدی پڑھیں:سری لنکا کا ٹاس جیت کر پاکستان کے خلاف بیٹنگ کا فیصلہ

مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم سے کہا کہ وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی معاملات کی بہتری کیلئےمذاکرات کو ایک اور موقع دیں، جس پر وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اب بھی مذاکرات کی حامی ہے اسلام آباد پر چڑھائی کسی صورت قبول نہیں، پی ٹی آئی لانگ مارچ ختم کرکے مذاکرات کی میز پر واپس آئے۔