اسلام آباد(نیوزڈیسک)ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے کورکمانڈرکوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی لاہورکے رہائشی اور 79ویں لانگ کورس سے تعلق تھا ،انہوں نے مارچ 1989میں 6 آزاد کشمیر رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا اور پاک فوج میں 33 سال تک فرائض سرانجام دیئے۔انہیں نومبر2020میں لیفٹیننٹ جنرل کے عہدے پر ترقی دی گئی اور گزشتہ ڈیڑھ سال سے یہ ذمہ داری نبھا رہے تھے۔شہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز جنوری تا دسمبر 2020ء میں آئی جی ایف سی بھی رہ چکے تھے جبکہ 2018 سے دسمبر 2019 تک ڈی جی ایم آئی کے طور پر فرائض سرانجام دیئے۔ جب موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ 10 کور کمانڈ کر رہے تھے، اس وقت لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے پاس بطور بریگیڈیئر ٹرپل ون بریگیڈ کی کمان تھی،وہ 2012ء میں بریگیڈئر کے طور پر 111 بریگیڈ کے کمانڈررہے اور واشنگٹن ڈی سی میں ڈیفنس اتاشی بھی فائز رہے۔شہید لیفٹیننٹ جنرل سرفراز نے پسماندگان میں بیوہ ، ایک بیٹی اور دو بیٹے چھوڑے۔
حادثے میں شہید ہونے والے میجر جنرل امجد حنیف کاتعلق راولاکوٹ آزادکشمیر سے تھا،انہوں نے 1994میں آزاد کشمیر ریجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا ۔انہوں نے بیوہ ،ایک بیٹے اور دو بیٹیوں کو سوگوار چھوڑا ہے
۔کمانڈر انجینئر 12کور بریگیڈیئر محمد خالد فیصل آبادکے رہائشی اور کور آف انجینئرز سے تعلق رکھتے تھے۔برگیڈیئرمحمد خالد نے 1994میں 20انجینئر بٹالین میں کمیشن حاصل کیاتھا انہوں نے ضرب عضب کے دوران بارودی سرنگوں اور دیگر آئی ای ڈیز کی صفائی کو یقینی بنایا۔ اب انجینئرز کور سے ہونے کے ناطے وہ بلوچستان میں ریسکیو اور ریلیف کی تمام سرگرمیوں کی قیادت کر رہے تھے۔انہوں نے بیوہ ، تین بیٹیوں اور تین بیٹوں کو سوگوار چھوڑا۔پائلٹ میجر سعید کا تعلق لاڑکانہ سے تھا ،میجر سعید نے بیوہ ،ایک بیٹی اور ایک بیٹے کو سوگوار چھوڑا۔معاون پائلٹ میجر محمد طلحہ منان نے بیوہ اور دو بیٹوں کو سوگوار چھوڑا۔ چیف نائیک مدثر فیاض کا تعلق نارروال سے تھا،انہوں نے بیوہ کو سوگوار چھوڑا۔
لیفٹیننٹ جنرل سرفرازعلی شہید کون تھے؟








