بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

سعودی فوجی اتحاد نے یمن میں خصوصی آپریشن کی تیاری کرلی، شہریوں کو انخلا کا عندیہ

مکہ مشترکہ معاہدے کے تحت سعودی فوجی اتحاد نے یمن کے دارالحکومت صنعا میں خصوصی آپریشن کی تیاری کرتے ہوئے شہریوں کو انخلا کا عندیہ دے دیا۔

سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ یمن کے دارالحکومت صنعاء میں ایک مقام پر خصوصی آپریشن سے قبل شہریوں کو وہاں سے نکلنے کے لیے جلد وارننگ جاری کی جائے گی۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج کے ترجمان نے 13 اکتوبر کو بتایا کہ صنعاء میں مجوزہ خصوصی آپریشن سے پہلے متعلقہ مقام پر موجود شہریوں کو انخلا کی ہدایت جاری کی جائے گی۔

واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کے دوران یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض پر ڈرون اور بیلسٹک میزائل حملے کیےگئے ہیں، جس کے نتیجے میں ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔

حملے کی صورت میں ریاض کو سخت جواب دینے کی دھمکی
دوسری جانب حوثی تحریک کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے سعودی قیادت میں قائم اتحاد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر صنعاء پر حملے کیے گئے تو اس کا جواب سعودی دارالحکومت ریاض میں دیا جائے گا۔

یحییٰ سریع نے ممکنہ جوابی کارروائی کو ‘سخت اور دردناک’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ صنعاء پر کسی بھی حملے کے سنگین نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔ ان کے بیان سے یمن میں جاری کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج کی جانب سے شہریوں کے انخلا کی وارننگ جاری کرنے کے اعلان اور حوثی ترجمان کی جوابی کارروائی کی دھمکی کے بعد صنعاء کی سکیورٹی صورتحال پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

ریاض پر تازہ بیلسٹک میزائل حملہ ناکام
12 اکتوبر کو سعودی قیادت میں قائم اتحادی فوج نے کہا ہے کہ حوثیوں کی جانب سے ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل اور جنوب مغربی شہر خمیس مشیط کی جانب داغے گئے دو میزائل فضا میں تباہ کر دیے گئے۔

حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی تنظیم نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا، جبکہ خمیس مشیط کے قریب ایک فوجی فضائی اڈے کی جانب ڈرون بھی بھیجا گیا۔

سعودی دارالحکومت میں فضائی خطرے کی وارننگ کے بعد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ تاہم سعودی حکام نے اس تازہ حملے میں میزائلوں کو تباہ کردیا۔

واضح رہے کہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دو روز کے دوران ہونے والے حملوں میں مجموعی طور پر 14 افراد ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہوئے جبکہ سعودی حکام نے فضائی دفاعی نظام کی ناکامی کے اسباب جاننے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

رائٹرز اور الجزیرہ کے مطابق، حوثیوں نے 10 اکتوبر کو ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے مہلک حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

اس کے بعد 11 اکتوبر کو بھی ایئرپورٹ کے ٹرمینل کو نشانہ بنایا گیا، جس سے آگ بھڑک اٹھی اور مزید جانی نقصان ہوا۔

سعودی حکام کے مطابق پہلے حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بعد ازاں 13 ہو گئی جبکہ دوسرے حملے میں ایک شخص ہلاک ہوا۔ یوں دونوں حملوں میں مجموعی ہلاکتیں 14 ہو گئیں۔

سعودی عرب میں ائیر پورٹ بند، پروازیں منسوخ
حوثیوں کے حملوں کے بعد ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی آمد و رفت معطل کر دی گئی جبکہ سعودی حکام نے اعلان کیا کہ ایئرپورٹ ہفتے تک بند رہ سکتا ہے۔

متعدد بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے ریاض کے لیے پروازیں منسوخ یا معطل کر دیں۔ اتحاد ایئرویز نے ریاض کے علاوہ دمام اور جدہ کے لیے بھی پروازیں روکنے کا اعلان کیا، جبکہ گلف ایئر نے ریاض کی پروازیں ہفتے تک منسوخ کر دیں۔

مزید پڑھیں:چیٹ جی پی ٹی کی مدد سے شہری نے 3 سالہ قانونی جنگ جیت لی، جرمانہ منسوخ

سعودی حکام نے ریاض میں تعلیمی اداروں کی سرگرمیاں بھی عارضی طور پر آن لائن منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان اقدامات سے واضح ہوا کہ حملوں نے نہ صرف شہری سلامتی بلکہ فضائی سفر اور اہم معاشی سرگرمیوں کو بھی متاثر کیا ہے۔