امریکی ریاست مسیسپی میں ایک عدالت نے اپنے جِم میں کم عمر بچوں کے کپڑے تبدیل کرنے اور واش روم استعمال کرنے کے دوران خفیہ ویڈیوز بنانے کے جرم میں سابق جمناسٹک کوچ کو 90 سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق 39 سالہ کوچ کا نام سین گارڈنر ہے اور ان کا تعلق ریاست آئیووا کے شہر ویسٹ ڈیس موئنز سے ہے۔ یہ شخص ماضی میں ریاست مسیسیپی کے علاقے پوروس میں جمناسٹک کوچ کے طور پر کام کرتا تھا، جہاں اس نے اپنے جِم میں بچوں کی موجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھایا۔
اعلامیے کے مطابق کیس کی تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب امریکی ادارے سینٹر فار سیف اسپورٹ کو شکایات موصول ہوئیں کہ یہ کوچ کم عمر کھلاڑیوں کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کر رہا ہے۔ ادارے نے شکایات قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھجوا دیں، جس کے بعد فیڈرل بیورو آف انوسٹیگیشن (ایف بی آئی) اور مقامی پولیس نے مشترکہ تحقیقات شروع کیں۔
تفتیش کے دوران کوچ کی رہائش گاہ سے متعدد الیکٹرانک آلات قبضے میں لیے گئے جن کے فرانزک معائنے سے کم عمر بچوں کی متعدد تصاویر اور ویڈیوز برآمد ہوئیں، جن میں بعض بچے 12 سال سے بھی کم عمر تھے۔ حکام کے مطابق یہ ریکارڈنگز بظاہر خفیہ کیمرے کے ذریعے بنائی گئی تھیں۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ متعدد ویڈیوز مسیسیپی کے علاقے پوروس میں واقع جم کے واش روم میں بنائی گئی تھیں، جہاں یہ مجرم پہلے کام کرتا تھا۔ برآمد ہونے والی فائلوں میں 2017 اور 2018 کی ریکارڈنگز بھی شامل تھیں، ویڈیوز میں دکھائی دینے والے متعدد بچوں کی شناخت کوچ کے سابق شاگردوں کے طور پر کی گئی۔
امریکی اٹارنی جے ای بیکسٹر کروگر نے سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ واضح پیغام ہے کہ بچوں کو نشانہ بنانے والے افراد کو تلاش کرکے قانون کے مطابق جوابدہ ٹھہرایا جائے گا۔
ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ انچارج رابرٹ اے ایکہوف نے کہا کہ ملزم نے بچوں اور ان کے خاندانوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ ایف بی آئی بچوں کے استحصال میں ملوث افراد کی شناخت اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے اپنے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتی رہے گی۔
جن والدین کے بچے ماضی میں اس کوچ سے ٹریننگ لے چکے تھے، ان کی معلومات اور معاونت کے لیے ایف بی آئی نے ایک ویب سائٹ بھی قائم کی ہے تاکہ مزید ممکنہ متاثرین کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ ایف بی آئی اور ویسٹ ڈیس موئنز پولیس ڈیپارٹمنٹ کی مشترکہ تحقیقات کے نتیجے میں سامنے آیا، مقدمے کی پیروی امریکی معاون اٹارنی کمبرلی پرڈی اور لی اسمتھ نے کی۔
اعلامیے کے مطابق یہ کیس امریکی محکمہ انصاف کے منصوبے ”پروجیکٹ سیف چائلڈہڈ“ کے تحت چلایا گیا، جس کا آغاز 2006 میں بچوں کے جنسی استحصال اور بدسلوکی کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے کیا گیا تھا۔
مزید پڑھیں:غربت کے خاتمے کا عالمی دن، پاکستان بھوک بحران سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک میں شامل
اس منصوبے کے تحت وفاقی، ریاستی اور مقامی ادارے مل کر بچوں کا استحصال کرنے والے افراد کی شناخت، گرفتاری اور قانونی کارروائی کے لیے کام کرتے ہیں۔









