بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

چوہدری سالک حسین کی کوششوں سے 18 لاکھ سے زائد پاکستانیوں کو بیرونِ ملک روزگار کے مواقع، تین سال میں 110 ارب ڈالر سے زائد ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں، شاندار کارکردگی پر فخر ہے، غلام مصطفیٰ ملک

پاکستان مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات اور وزارتِ اوورسیز پاکستانیز کے فوکل پرسن غلام مصطفیٰ ملک(Ghulam Mustafa Malik) نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر برائے سمندر پار پاکستانی و انسانی وسائل کی ترقی چوہدری سالک حسین کی کوششوں سے پاکستانی افرادی قوت کے لیے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو عالمی سطح پر متعارف کرانے کے حوالے سے اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کی قیادت میں سمندر پار پاکستانیوں کے روزگار، فلاح و بہبود اور حقوق کے تحفظ کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابلِ فخر ہیں۔غلام مصطفیٰ ملک نے کہا کہ قومی اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2024 سے 2026 کے دوران اب تک 18 لاکھ 71 ہزار 666 پاکستانی روزگار کے حصول کے لیے بیرونِ ملک جا چکے ہیں ان میں ڈاکٹرز، انجینئرز، منیجرز، اکاؤنٹنٹس، آئی ٹی ماہرین، اساتذہ، نرسیں اور دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستانی افرادی قوت کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی اہمیت اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں بیرونِ ملک پاکستانی افرادی قوت کی شناخت زیادہ تر محنت کشوں تک محدود سمجھی جاتی تھی، لیکن اب پاکستانی پروفیشنلز، اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد، منیجرز اور ہنرمند ماہرین بھی عالمی اداروں میں اہم ذمہ داریاں سنبھال رہے ہیں۔ پاکستانیوں کا اعلیٰ عہدوں اور انتظامی ذمہ داریوں تک پہنچنا نہ صرف ان کی صلاحیتوں کا اعتراف ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے تشخص کو بھی مزید تقویت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت سمیت دیگر ممالک کے پیشہ ور افراد عالمی اداروں میں مختلف اعلیٰ عہدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، اس لیے پاکستان کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلیم یافتہ اور ہنرمند نوجوانوں کو عالمی سطح پر آگے بڑھنے کے بہتر مواقع فراہم کرے۔

مزید پڑھیں:حنا جاوید قتل؛ مرکزی ملزم کے اہلخانہ کا پہلی مرتبہ بیان، نئے انکشافات سامنے آگئے
غلام مصطفیٰ ملک نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی محنت کا ایک بڑا ثمر ترسیلاتِ زر کی صورت میں ملکی معیشت کو حاصل ہوتا ہے۔ دستیاب سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2023-24 میں پاکستان کو تقریباً 30.3 ارب ڈالر، مالی سال 2024-25 میں 38.3 ارب ڈالر اور مالی سال 2025-26 میں تقریباً 41.6 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر موصول ہوئیں۔ یوں ان تین مالی سالوں میں مجموعی ترسیلاتِ زر تقریباً *110.2 ارب ڈالر* بنتی ہیں۔ یہ خطیر رقم ملکی معیشت، زرمبادلہ کی آمد اور لاکھوں پاکستانی خاندانوں کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کی کوششوں سے بیرونِ ملک روزگار کے مواقع میں مزید اضافے، پاکستانی ہنرمندوں اور اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کے لیے بہتر ملازمتوں کی تلاش، بھرتی کے عمل میں شفافیت اور سمندر پار پاکستانیوں کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزارت کی یہ کوششیں اس امر کی عکاس ہیں کہ پاکستانی افرادی قوت کو عالمی روزگار کی منڈی میں بہتر مقام دلانا اور ان کے حقوق کا تحفظ کرنا اہم ترجیحات میں شامل ہے۔

غلام مصطفیٰ ملک نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کا وژن ہے کہ پاکستان کو عالمی سطح پر صرف افرادی قوت فراہم کرنے والے ملک کے طور پر نہیں بلکہ ایک تعلیم یافتہ، ہنرمند، قابل اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں سے مالا مال قوم کے طور پر بھی پہچانا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے باوقار روزگار کے مواقع پیدا کرنا، ان کی محنت کو ملکی ترقی سے جوڑنا اور ترسیلاتِ زر میں اضافے کے ذریعے معیشت کو مستحکم کرنا قابلِ تحسین اقدامات ہیں۔غلام مصطفیٰ ملک نے کہا کہ چوہدری سالک حسین کی کارکردگی اور سمندر پار پاکستانیوں کی فلاح و بہبود کے لیے جاری کوششوں پر فخر ہے۔ پاکستانی افرادی قوت کی عالمی سطح پر پذیرائی اور ملک میں ترسیلاتِ زر کی مسلسل آمد پاکستان کے روشن معاشی مستقبل کے لیے امید افزا ہے۔