بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اسلام آباد:H-9 اتوار بازار کی بندش، تاجر سراپا احتجاج، شہریوں کو مشکلات

فائر سیفٹی انتظامات کے نام پر پورا بازار بند کرنے سے ہزاروں افراد کا روزگار متاثر ہو رہا ہے۔ دکانداروں نے احتجاج کرتے ہوئے بازار فوری کھولنے کا مطالبہ کردیا

تفصیلات کے مطابق تقریباً 200 سے 250 تاجروں نے آج ایچ نائن اتوار بازار کے باہر دھرنا دیا اور کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کی انتظامیہ کے خلاف نعرے لگائے۔

مظاہرین نے سوال اٹھایا کہ حفاظتی انتظامات میں خامیوں کو دور کرنے کے بجائے پورے بازار کو بند کیوں کیا گیا ہے۔تاجروں کے مطابق بازار کی بندش سے ان کی آمدنی رک گئی ہے اور انہیں مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

میٹروپولیٹن کارپوریشن اسلام آباد (ایم سی آئی) کے ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن (ڈی ایم اے) نے 16 اکتوبر2026 سے ایچ نائن اور جی سکس کے ہفتہ وار بازار بند رکھنے کا حکم دیا تھا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق بازار اس وقت تک بند رہیں گے جب تک آگ سے بچاؤ کے مناسب انتظامات مکمل نہیں کرلیے جاتے اور سی ڈی اے کی ایمرجنسی سروسز کی جانب سے کلیئرنس نہیں مل جاتی۔

ایچ نائن اتوار بازار کے باہر پولیس کی نفری بھی تعینات ہے جبکہ جی سکس کا ہفتہ وار بازار بھی بند ہے۔

تاجروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت آگ سے بچاؤ اور دیگر حفاظتی اقدامات پر رقم خرچ کی ہے۔ ان کے مطابق بازار میں تقریباً 1,700 آگ بجھانے والے آلات نصب کیے گئے ہیں جبکہ فائر سیفٹی ٹرالیاں اور سگریٹ نوشی سے منع کرنے والے بورڈز بھی لگائے گئے ہیں۔

دکانداروں نے دعویٰ کیا کہ 30 سکیورٹی کیمرے نصب کیے جاچکے ہیں اور تقریباً 500 اسٹالز پر میش شٹر گیٹس بھی لگائے گئے ہیں، جبکہ باقی اسٹالز پر کام جاری ہے۔

ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔ حکام کا مؤقف ہے کہ بازاروں کو دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری فائر سیفٹی انتظامات مکمل کرنا اور متعلقہ ادارے سے کلیئرنس حاصل کرنا لازم ہے۔

تاجروں نے مطالبہ کیا ہے کہ پہلے سے کیے گئے اقدامات کا معائنہ کیا جائے اور باقی خامیوں کی نشاندہی کرکے انہیں دور کرنے کا موقع دیا جائے۔

بازار کی بندش سے قبل جون میں ایچ نائن ہفتہ وار بازار کے بلاک سی میں بڑی آتشزدگی ہوئی تھی جہاں زیادہ تر کپڑوں اور جوتوں کے اسٹالز تھے۔ آگ سے مجموعی طور پر 2,749 میں سے 374 سے زائد اسٹالز متاثر ہوئے تھے اور تاجروں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑا تھا۔

یہ 2017 کے بعد بازار میں آتشزدگی کا پانچواں واقعہ بتایا گیا تھا۔ واقعے کے بعد آگ سے بچاؤ، بجلی کی حفاظت اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے انتظامات پر سوالات اٹھائے گئے تھے۔

واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی قائم کی گئی جسے آگ لگنے کی وجوہات، ریسکیو کارروائیوں اور شعلے پھیلنے کے عوامل کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ تحقیقات میں فائر سیفٹی اور ہنگامی تیاریوں میں خامیوں کی نشاندہی کی گئی۔

سفارشات میں اسٹالز کے اندر رات کے وقت سامان رکھنے سے گریز، آتش گیر ترپالیں ہٹانے، جامع حفاظتی معائنے اور ہنگامی ردعمل بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل تھے۔

ایچ نائن اور جی سکس کے ہفتہ وار بازار اسلام آباد کے ان مقامات میں شامل ہیں جہاں شہری نسبتاً کم قیمت پر سبزیاں، اشیائے خورونوش، کپڑے اور گھریلو سامان خریدتے ہیں۔

مزید پڑھیں:مسلسل انجریز: اسکاٹش فاسٹ بولر بریڈ وہیل کا ریٹائرمنٹ کا اعلان

بازاروں کی بندش سے تاجروں کا کاروبار متاثر ہوا ہے جبکہ ان بازاروں سے خریداری کرنے والے شہریوں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔