بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دماغ کو متاثر کرنیوالے خطرناک فنگس کیسز میں اضافہ، فنگس پھیلتا کیسے ہے؟

امریکا میں ایک نایاب اور خطرناک فنگس کے کیسز میں اضافے نے سائنسدانوں کی تشویش بڑھا دی ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یہ فنگس دماغ میں پھوڑے پیدا کرسکتا ہے اور سنگین صورتوں میں متاثرہ شخص کی جان بھی لے سکتا ہے۔

امریکی سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کے اعداد و شمار کے مطابق ’کلاڈو فائیلو فورا بینشیانا‘ نامی اس فنگس کے کیسز 2024ء میں 8 تھے پھر 2025ء میں بڑھ کر 14 ہوگئے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جنوری 2009ء سے جولائی 2026ء تک امریکا میں اس انفیکشن کے 48 مصدقہ اور ایک ممکنہ کیس کی نشاندہی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق یہ فنگس عموماً سیاہ پھپھوندی کی ایک قسم ہے، جو مٹی اور گل سڑ جانے والے نامیاتی مادے میں پائی جاسکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انفیکشن کی صورت میں یہ فنگس دماغ میں پھوڑے پیدا کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں سوجن اور اعصابی مسائل سامنے آسکتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس فنگس سے متاثر ہونے والے افراد میں یادداشت کی خرابی اور نظر کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس انفیکشن کی تشخیص مشکل ہوسکتی ہے کیونکہ اس کی علامات بعض اوقات دماغی رسولی جیسی دیگر بیماریوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بیماری میں اموات کی شرح بعض حالات میں 70 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ واشنگٹن یونیورسٹی کی ایک لیبارٹری میں بھی اس فنگس کی موجودگی میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق 2017ء سے 2023ء کے دوران دماغ اور مرکزی اعصابی نظام کے ہر ایک ہزار نمونوں میں اوسطاً 8.4 کیسز سامنے آئے، جب کہ 2025 میں یہ تعداد بڑھ کر ہر 1 ہزار نمونوں میں 26 ہوگئی، جو تقریباً 210 فیصد اضافہ ہے۔

ماہرین کا خیال ہے کہ دستیاب اعداد و شمار حقیقی صورتحال کی مکمل عکاسی نہیں کرتے کیونکہ بعض کیسز کی تشخیص نہ ہو پانے کا امکان موجود ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس فنگس کے کیسز امریکا کی 21 ریاستوں اور دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

سائنسدان ابھی تک یہ طے نہیں کرسکے کہ یہ فنگس انسانوں تک کس طرح پہنچتا ہے۔ امکان ظاہر کیا جاتا ہے کہ اس کے ذرات سانس کے ذریعے جسم میں داخل ہوسکتے ہیں یا کسی کھلے زخم کے راستے انفیکشن پیدا کرسکتے ہیں۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ رپورٹ ہونے والے بعض مریضوں کا مدافعتی نظام بھی معمول کے مطابق تھا، یعنی خطرہ صرف کمزور مدافعت رکھنے والے افراد تک محدود نہیں سمجھا جاسکتا۔

مزید پڑھیں:چیئرمین سی ڈی اے فوری اخبار مارکیٹ کو ڈی سیل کریں، راجہ ظفر الحق

ماہرین کے مطابق اس نایاب انفیکشن کے بارے میں مزید تحقیق اور بہتر نگرانی کی ضرورت ہے تاکہ کیسز میں اضافے کی وجوہات، پھیلاؤ کے طریقوں اور مؤثر علاج کو بہتر طور پر سمجھا جاسکے۔