بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

اڑنے والی ٹیسلا کار کی سنسنی خیز حقیقت سامنے آگئی

واشنگٹن: دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک کی معروف الیکٹرک کار ساز کمپنی ٹیسلا کی جانب سے طویل عرصے سے منتظر سپورٹس کار “روڈسٹر” (Roadster) کی باضابطہ نمائش کے بعد عالمی آٹو موبائل اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں شدید سنسنی پھیل گئی ہے۔ اسپیس ایکس (SpaceX) کے جدید راکٹ سسٹمز اور ٹیسلا کی الیکٹرک انجینئرنگ کے گٹھ جوڑ سے تیار کی گئی اس گاڑی نے نہ صرف رفتار کے پچھلے تمام ریکارڈز پاش پاش کر دیے ہیں بلکہ فضا میں اڑنے کا عملی مظاہرہ کر کے دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ہے۔ تاہم، سائنسی و تجارتی رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ عام خریداروں کے لیے مارکیٹ میں دستیاب ہونے والا ماڈل فضا میں پرواز نہیں کر سکے گا بلکہ وہ سڑک پر چلنے والی ایک انتہائی تیز رفتار الیکٹرک اسپورٹس کار ہوگی۔

news-06-02

ہوش ربا لائیو شو اور فضا میں قلابازیاں:
تفصیلات کے مطابق، ٹیسلا کی اس نئی روڈسٹر کی لائیو تقریبِ نمائش کے دوران ایک ایسا مظاہرہ دیکھا گیا جس نے شائقین کو دانتوں تلے انگلیاں دبانے پر مجبور کر دیا۔ تقریب کے دوران گاڑی نے انگریزی کے حرف C شکل کے ایک ریمپ پر تیزی سے دوڑتے ہوئے کچھ سیکنڈز کے لیے الٹا معلق رہ کر دکھایا، جس کے بعد اس نے فضا میں باقاعدہ معلق ہو کر قلابازی (Flip) کھائی اور بنا کسی نقصان کے زمین پر بالکل درست حالت میں لینڈ کر گئی۔ یہ ناقابلِ یقین منظر سائنسی دنیا میں ٹیکنالوجی کے ایک نئے باب کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں کار اور راکٹ سائنس کا سرحدیں مل چکی ہیں۔

news-06-03

روڈسٹر کے تین مختلف اور حیرت انگیز ماڈلز:
ٹیسلا کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس الیکٹرک اسپورٹس کار کو تین مختلف ویرینٹس (Trims) میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کی خصوصیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں:

1. پرفارمنس ماڈل (Roadster Performance):
یہ اس سیریز کا بنیادی (Base) ماڈل ہے جو عام سڑکوں پر چلانے کے لیے مکمل طور پر موزوں ہے۔ دو نشستوں پر مشتمل اس گاڑی کا ڈیزائن کسی سائنس فکشن ویڈیو گیم (Cyberpunk 2077) جیسا انتہائی اینگولر اور مستقبل مزاج ہے۔ اس کے دروازے لمبورگینی کے انداز میں اوپر کی جانب کھلتے ہیں۔ اس میں “ڈرائیو بائی وائر” سٹیئرنگ اور بریکنگ سسٹم متعارف کروایا گیا ہے۔ اس میں نصب ملٹی موڈ سکشن سسٹم سڑک پر زبردست گرپ اور موڑ کاٹتے وقت کنٹرول فراہم کرتا ہے۔ اگر یہ گاڑی تجارتی پیداوار کے مرحلے میں داخل ہوتی ہے تو عام سڑکوں پر چلنے والی گاڑی یہی ہوگی جسے عوام خرید سکیں گے۔

2. تھرسٹ ماڈل (Roadster Thrust):
یہ ایک خصوصاً ریسنگ اور انتہائی تیز رفتار کے شوقین افراد کے لیے تیار کردہ لمیٹڈ ایڈیشن ماڈل ہے۔ اگرچہ یہ ایک مکمل الیکٹرک گاڑی ہے، لیکن اس کے پچھلے حصے میں روایتی سپورٹس کاروں کی طرح چار نوزلز دکھائی دیتے ہیں۔ درحقیقت یہ کوئی ایگزاسٹ پائپ نہیں بلکہ اسپیس ایکس کے “کولڈ گیس تھرسٹرز” (Cold-gas thrusters) کے نوزلز ہیں۔ یہ تھرسٹرز گاڑی کو ایسی زبردست دھار (Propulsion) فراہم کرتے ہیں کہ یہ گاڑی محض 0.81 سیکنڈز میں 0 سے 60 میل فی گھنٹہ (تقریباً 100 کلومیٹر فی گھنٹہ) کی خوفناک رفتار حاصل کر لیتی ہے۔ ایلون مسک کے مطابق ان تھرسٹرز سے نکلنے والی ہوا کی رفتار آواز کی رفتار (Speed of Sound) سے بھی تیز ہوتی ہے۔

news-06-04

3. راکٹ ماڈل (Roadster Rocket):
یہ اس سلسلے کا سب سے سنسنی خیز اور غیر معمولی ماڈل ہے، جسے “اڑنے والی کار” (Flying Car) کا نام دیا گیا ہے۔ یہ ماڈل صرف ایک نشست پر مشتمل ہے اور اس کے ارد گرد کولڈ گیس تھرسٹرز نصب کیے گئے ہیں جو گاڑی کو سڑک سے اوپر اٹھانے، آگے بڑھانے اور فضا میں دائیں بائیں گھمانے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ تاہم، ٹیسلا نے واضح کیا ہے کہ یہ ماڈل ہر عام و خاص کے لیے دستیاب نہیں ہوگا بلکہ یہ صرف ‘دعوت نامے (Invite-only) پر فراہم کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس اڑنے والے فیچر کو عام سڑکوں یا شہری فضائی حدود میں استعمال کرنے کی قانونی اجازت بالکل حاصل نہیں ہوگی، یعنی یہ ایک شاندار لیکن تکنیکی نمائش کے علاوہ عام زندگی میں قابلِ استعمال نہیں ہو گا۔

سپیڈ کے نئے ریکارڈز اور ایلون مسک کے دعوے:
اسپیس ایکس کی راکٹ ٹیکنالوجی کے امتزاج سے تیار کردہ اس گاڑی کا ائیر ٹینک سسٹم خود کار طریقے سے ری چارج ہوتا ہے۔ ٹیسلا کا دعویٰ ہے کہ یہ گاڑی فی الحال 230 میل فی گھنٹہ کی ٹاپ سپیڈ حاصل کر سکتی ہے، لیکن ایلون مسک کا ہدف اس کی رفتار کو میپ 0.5 (Mach 0.5) یعنی تقریباً 381 میل فی گھنٹہ (613 کلومیٹر فی گھنٹہ) تک لے جانا ہے، جو کہ آٹو موبائل کی تاریخ میں ایک ناقابلِ تصور حد ہے۔

پیشگی بکنگ، خطیر رقم اور قانونی خدشات:
اگرچہ ٹیسلا نے پرفارمنس اور تھرسٹ ماڈلز کے لیے آرڈرز اور بکنگز قبول کرنا شروع کر دی ہیں، تاہم آٹو ماہرین نے خریداروں کو خبردار کیا ہے کہ وہ اپنی محنت کی کمائی جمع کروانے سے پہلے چند انتہائی اہم اور تشویشناک نکات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

بکنگ کا عمل انتہائی مہنگا ہے؛ شروعاتی طور پر $5,000 (پانچ ہزار ڈالرز) جمع کروانے ہوتے ہیں، اور اس کے درست 10 دن کے اندر پرفارمنس ماڈل کے لیے اضافی $45,000 اور تھرسٹ ماڈل کے لیے اضافی $2,45,000 کی بڑی رقم جمع کروانا لازمی ہے۔ ایلون مسک کے مطابق اس گاڑی کی تجارتی پیداوار (Production) کی توقع 2028 سے پہلے نہیں کی جا سکتی۔سب سے تشویشناک بات یہ ہے کہ ٹیسلا کی بکنگ پالیسی اور معاہدے میں صاف لکھا گیا ہے کہ کیونکہ یہ گاڑی ابھی تک مراحلِ تحقیق (Under Development) میں ہے، اس لیے کمپنی اس بات کی کوئی حتمی ضمانت یا گارنٹی نہیں دیتی کہ گاڑی خریدار کو کب ڈلیور کی جائے گی یا آیا یہ کبھی واقعی ڈلیور ہوگی بھی یا نہیں۔ اس کے علاوہ کمپنی نے اب تک اس گاڑی کی کل قیمت یا سنگل چارج پر ملنے والی مائلج (Range) کا باضابطہ اعلان نہیں کیا، جس کا مطلب ہے کہ خریداروں کو نا معلوم قیمت پر ہزاروں ڈالرز ایڈوانس داؤ پر لگانے پڑ رہے ہیں۔

 آٹو موبائل میڈیا اور ٹیکنالوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ ٹیسلا کی یہ نئی روڈسٹر بلا شبہ انجینئرنگ کا ایک غیر معمولی شہکار ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کی سرحدوں کو آگے بڑھاتی ہے۔ لیکن عام صارف کے لیے اڑنے والی کار کا خواب ابھی حقیقت سے دور ایک دلکش فریب ہی ہے، کیونکہ زیادہ تر خریدار جس گاڑی کو سڑکوں پر چلا سکیں گے وہ فضا میں اڑنے والی نہیں بلکہ محض ایک جدید اور تیز رفتار الیکٹرک اسپورٹس کار ہی ہوگی۔