پیرس: ایک جدید طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ خراب نیند، بے خوابی اور رات کی شفٹوں میں کام کرنے سے گھٹنوں اور کولہوں کے آسٹیو ارتھرائٹس (جوڑوں کے گھساؤ) ہو سکتا ہے جو سرجری کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
پیرس سے شائع ہونے والے معروف طبی جریدے ‘آرتھرائٹس کیئر اینڈ ریسرچ‘ میں واشنگٹن یونیورسٹی کے ماہرین کی شائع کردہ ایک جامع تحقیق نے جوڑوں کی صحت کے حوالے سے اہم انکشافات کیے ہیں۔
اس تحقیق میں برطانیہ کے ‘یو کے بائیو بینک‘ سے تعلق رکھنے والے تقریباً 5 لاکھ بالغ افراد کے ڈیٹا کا تفصیلی تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے نتائج کے مطابق انسان کے جسمانی نظام اور قدرتی گھڑی (باڈی کلاک) میں خلل جسمانی وزن سے قطع نظر، مستقل بنیادوں پر جوڑوں کی صحت کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔
عام طور پر ڈاکٹر جوڑوں کو صحت مند رکھنے کے لیے جسمانی وزن میں اعتدال، باقاعدگی سے ورزش اور چوٹوں سے بچاؤ کی ہدایت دیتے ہیں، تاہم محققین کا کہنا ہے کہ جوڑوں کی ساخت اور کارکردگی کو برقرار رکھنے میں معیاری نیند بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
آسٹیو ارتھرائٹس کی بیماری اس وقت جنم لیتی ہے جب جوڑوں کے اندر ہڈیوں کے سروں پر موجود کرکرا مادّہ (کارٹیلیج) آہستہ آہستہ گھس کر ختم ہونے لگتا ہے۔ یہ حالت شدید درد، جوڑوں کی اکڑن اور چلنے پھرنے میں دشواری کا باعث بنتی ہے۔
تحقیق کے لیے ماہرین نے شرکا کی نیند کی عادتوں، ان کے سو جانے کے وقت، بے خوابی کی شکایت اور نیند میں بار بار انقطاع سے متعلق جامع معلومات اکٹھی کیں۔
اس کے بعد ان افراد کی گھٹنوں اور کولہوں کی صحت کا 8 سے 13 سال کے طویل عرصے تک جائزہ لیا گیا۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ روزانہ 6 گھنٹے سے کم سونے والے افراد میں گھٹنوں کے مسائل کا خطرہ 41 فیصد جبکہ کولہوں کی بیماریوں کا خطرہ 39 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔
اسی طرح جن افراد کو رات کو سونے میں دشواری پیش آتی ہے یا جن کی آنکھ بار بار کھلتی ہے، ان میں جوڑوں کی بیماریوں کے امکانات میں 34 فیصد سے 40 فیصد تک کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
اس کے علاوہ رات کی شفٹ میں کام کرنے والے افراد میں بھی گھٹنوں کے مسائل پیدا ہونے کے امکانات زیادہ دیکھے گئے۔
طبی ماہرین نے واضح کیا کہ دن بھر کی سرگرمیوں کے دوران کارٹیلیج پر پڑنے والے دباؤ کی بحالی رات کے وقت ہوتی ہے۔
کارٹیلیج کی نگہداشت کرنے والے خلیات کی اپنی اندرونی گھڑی ہوتی ہے جو اس مرمتی عمل کو منظم کرتی ہے۔
نیند میں خلل سے کارٹیلیج کو رات کے وقت اپنی موٹائی اور پانی کا تناسب بحال کرنے کا موقع نہیں ملتا، جس سے وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگتا ہے۔
نیند کی مسلسل کمی کے باعث جسم کے اندر سوزش (انفلیمیشن) پیدا کرنے والے ردعمل میں شدید اضافہ ہوتا ہے۔ جسمانی آرام کی کمی سے جوڑوں کے انساج کی قدرتی مرمت کا عمل سست ہو جاتا ہے اور درد محسوس کرنے کی حساسیت بڑھ جاتی ہے۔
موسمیاتی یا جسمانی تبدیلیوں کے دوران ہمارے جسم کو مکمل بحالی کے لیے کم از کم 7 سے 8 گھنٹے کی مسلسل نیند کی ضرورت ہوتی ہے۔
مزید پڑھیں:ایف بی آر میں اصلاحات تیز، بدعنوانوں کیخلاف بلا امتیاز کارروائی: وزیراعظم
ماہرین کے مطابق ورزش اور وزن پر کنٹرول رکھنے کے ساتھ ساتھ نیند کے صحیح اوقات کا تعین اور اچھے معیار کو یقینی بنانا جوڑوں کو طویل عرصے تک فعال اور بیماریوں سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی ضروری ہے۔









