بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

میر رضا کی موت خودکشی نہیں بلکہ بہیمانہ قتل تھا، سندھ حکومت نے جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کردی

کراچی: کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا کے پُراسرار قتل کے معاملے میں اس وقت ایک انتہائی سنسنی خیز اور تاریخی موڑ آ گیا ہے جب سندھ حکومت نے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کردہ جوڈیشل کمیشن کی جامع انکوائری رپورٹ باضابطہ طور پر پبلک کر دی ہے۔ کمیشن نے اپنی تفصیلی اور تہلکہ خیز رپورٹ میں یہ اہم انکشاف کیا ہے کہ میر رضا کی موت ہرگز خودکشی نہیں تھی بلکہ یہ ایک باقاعدہ قتل کا واقعہ تھا، جس میں پولیس کی ابتدائی تفتیش اور کارروائیوں پر شدید نوعیت کے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔

جوڈیشل کمیشن کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ کے مطابق، پولیس نے اس دلخراش واقعے کو ابتدائی طور پر خودکشی کا رنگ دے کر حقائق کو چھپانے یا کیس کو کور اپ (Cover up) کرنے کی کوشش کی، جس کے امکانی خدشات کو کمیشن نے خارج نہیں کیا۔

کمیشن کی جانب سے سامنے لائی گئی حتمی پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس بات کو عیاں کر دیا ہے کہ موت کی اصل وجہ مقتول کے جسم پر پشت سے لگنے والی گولی کا زخم تھا، جو کہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اسے جان بوجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ، جوڈیشل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ ہولناک انکشاف بھی کیا ہے کہ مقتول کی لاش پر تیزاب کے شواہد بھی پائے گئے ہیں، جس سے اس جرم کی نوعیت مزید بھیانک اور پیچیدہ ہو جاتی ہے۔

کیس کی تہہ تک پہنچنے اور اصل مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے جوڈیشل کمیشن نے اہم اور سخت سفارشات پیش کی ہیں: کمیشن نے سفارش کی ہے کہ اس ہائی پروفائل کیس کی مزید اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کے لیے ایک طاقتور جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (JIT) تشکیل دی جائے، جس کی سربراہی ڈی آئی جی عرفان بلوچ کریں۔ اس جے آئی ٹی میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (ISI)، انٹیلی جنس بیورو (IB)، پاکستان رینجرز سندھ اور سائبر کرائم ایجنسی کے نمائندوں کو شامل کیا جائے۔

کمیشن نے اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ ابتدائی تفتیش کے دوران غفلت یا کوتاہی برتنے والے پولیس اہلکاروں کے کردار کی گہرائی سے انکوائری کی جائے، اور اس مقصد کے لیے وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) کی سربراہی میں ایک اعلیٰ سطح کی خصوصی کمیٹی بنائی جائے۔

سندھ کابینہ کا اجلاس اور جوڈیشل کمیشن کے اہم فیصلے
تفصیلات کے مطابق، میر رضا قتل کیس کی تحقیقات کے لیے سندھ ہائی کورٹ کے جج جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم کردہ جوڈیشل کمیشن نے اپنی کارروائی کامیابی سے مکمل کر لی تھی۔ کمیشن نے اپنی 15 طویل سماعتوں کے دوران کل 49 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے، جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور پولیس تفتیش، طبی قانونی کارروائیوں اور غفلت کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا تھا۔

کمیشن نے اپنی یہ جامع رپورٹ 7 مختلف لفافوں میں بند کر کے 15 اکتوبر کو سندھ حکومت کے حوالے کی تھی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے شفافیت کو برقرار رکھتے ہوئے اس رپورٹ کو فوری طور پر پبلک کرنے اور اس کی نقول متاثرہ خاندان تک پہنچانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ اس کے علاوہ صوبائی وزراء ضیاء الحسن لنجار، ناصر حسین شاہ، سعید غنی اور ایڈووکیٹ جنرل پر مشتمل ایک ذیلی کمیٹی بھی بنا دی گئی ہے جو کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔

عدالت میں تفتیشی افسر کی ناکامی اور مزید مہلت

دوسری جانب، کراچی کی ایک مقامی عدالت میں آج پھر میر رضا قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت کے دوران پولیس کے تفتیشی افسر ایک بار پھر عدالت کے سامنے کیس کا حتمی چالان پیش کرنے میں ناکام رہے، جو کہ تیسری مرتبہ ناکامی ہے۔ عدالت نے تفتیشی حکام کو مزید مہلت فراہم کرتے ہوئے سخت ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ہر صورت میں حتمی چالان پیش کیا جائے، اور کیس کی مزید کارروائی 2 نومبر تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

میر رضا کیس کا پس منظر: خودکشی سے قتل تک کا سفر
یہ المناک واقعہ رواں برس 28 جولائی کو اس وقت شروع ہوا جب کراچی کے نوجوان تاجر میر رضا علی پاکستان ایمپلائیز ہاؤسنگ سوسائٹی (پی ای سی ایچ ایس) کے علاقے سے پُراسرار طور پر لاپتہ ہو گئے تھے۔ اس کے دو روز بعد 30 جولائی کو ان کی لاش گلستان جوہر کے علاقے سے انتہائی تشویش ناک حالت میں برآمد ہوئی۔

ابتدائی پولیس مؤقف اور شکایات:
پولیس نے ابتدائی طور پر اس دلخراش واقعے کوخودکشی قرار دے کر کارروائی شروع کی تھی۔ تاہم، مقتول کے اہل خانہ نے اس نظریے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ میر رضا کو اغوا کے بعد بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کیا گیا ہے۔ لاش کے سینے پر گولی کا واضح نشان موجود تھا اور عجیب بات یہ تھی کہ لاش ملنے سے ایک روز قبل ہی ان کے تمام سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھی بند کر دیے گئے تھے۔

قبر کشائی اور دوسرا پوسٹ مارٹم:
خاندان کے شدید تحفظات اور دباؤ پر عدالت نے قبر کشائی کا حکم دیا، جس پر 8 اگست کو خصوصی میڈیکو لیگل بورڈ نے لاش کی قبر کشائی کر کے دوبارہ پوسٹ مارٹم کیا۔ اس دوسری رپورٹ میں تشدد اور باقاعدہ قتل کے ناقابلِ تردید شواہد سامنے آئے، جس کے بعد فیروز آباد پولیس نے مقدمے میں دفعہ 302 شامل کر کے اسے قتل کے کیس میں تبدیل کر دیا۔

مالی معاملات اور کرپٹو کے دعوے:
تفتیش کے دوران میر رضا کے مالی معاملات، کرپٹو مارکیٹ میں مبینہ بھاری نقصانات اور سرمایہ کاروں کو منافع دینے کے لیے لوگوں سے ادھار لی گئی رقم سے متعلق بھی مختلف کہانیاں سامنے آتی رہیں، جن کی تحقیقات جوڈیشل کمیشن نے بھی اپنے دائرہ کار میں رکھی ہیں۔