بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مریض کی سیلفی دیکھ کر کینسر سے بچنے کی پیشگوئی کرنے والا جدید اے آئی ٹول تیار

امریکا/بوسٹن: امریکی ریاست میساچوسٹس کے شہر بوسٹن میں واقع ماس جنرل بریگھم ہاسپٹل کے طبی ماہرین نے مصنوعی ذہانت (AI) کے شعبے میں ایک ایسی اہم اور انقلابی پیش رفت حاصل کر لی ہے، جس سے کینسر کے مریضوں کی جان بچانے کے امکانات کا اندازہ اب محض ان کی ایک سیلفی کے ذریعے لگایا جا سکے گا۔ ماہرین نے ایک ایسا جدید اے آئی ٹول تیار کیا ہے جو چہرے کی تصویر کا باریک بینی سے تجزیہ کر کے یہ پیشگوئی کرتا ہے کہ آیا کینسر کا مریض بیماری پر قابو پا کر بچنے میں کامیاب ہو گا یا نہیں۔

اس جدید ترین اے آئی سسٹم کی بنیادحیاتیاتی عمر (Biological Age) کا تصور ہے۔ ویسے تو ہر فرد کی عمر تاریخ پیدائش (Chronicle Age) سے ماپی جاتی ہے، لیکن طبی لحاظ سے ہر انسان کی ایک حیاتیاتی عمر بھی ہوتی ہے جو اس کے جسمانی، ذہنی افعال اور خلیاتی صحت کے مطابق ہوتی ہے۔ جینز، طرز زندگی اور دیگر عوامل اس عمر پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ حیاتیاتی عمر جتنی زیادہ ہو گی، مہلک امراض کا خطرہ بھی اتنا ہی بڑھ جائے گا۔

ماہرین نے اس جدید اے آئی سسٹم کو 4 کروڑ سے زیادہ چہرے کی تصاویر کے وسیع ڈیٹا بیس پر تربیت دی ہے، جس کی وجہ سے یہ ٹول چہرے کی باریک سے باریک تبدیلیوں کو پکڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
جب کوئی کینسر کا مریض اپنی سیلفی یا تصویر اس سسٹم پر اپلوڈ کرتا ہے، تو اے آئی الگورتھم چہرے کے مختلف حصوں کا گہرا معائنہ کر کے سب سے پہلے اس کی حیاتیاتی عمر کا تخمینہ لگاتا ہے۔ اس کے بعد، یہ ٹول بتاتا ہے کہ بیماری کی شدت اور مریض کی جسمانی حالت کے مطابق اس کے بچنے کا امکان کتنا فیصد ہے۔

اس اہم تحقیق کے نتائج بین الاقوامی سطح پر معتبر ترین طبی جریدےلانسیٹ ڈیجیٹل ہیلتھ (Lancet Digital Health) میں شائع ہوئے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، یہ دنیا میں اپنی نوعیت کا پہلا اے آئی ماڈل ہے جو صرف تصویر دیکھ کر کینسر کے مریضوں کی جان بچنے کی پیشگوئی کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ یہ جدید ٹیکنالوجی مستقبل میں ڈاکٹروں کے لیے علاج کی بہتر منصوبہ بندی اور مریضوں کے لیے بروقت تشخیص میں انتہائی مددگار ثابت ہو گی۔