لندن/واشنگٹن: فلکیاتی دنیا میں ایک انتہائی حیرت انگیز اور تاریخی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں سائنسدانوں نے کائنات میں پہلی بار ایک ایسے “سبز ستارے” (Green Star) کا پتہ لگایا ہے جو انسانی آنکھ سے دیکھنے پر خوبصورت چارٹریس گرین (Chartreuse Green) رنگ میں چمکتا دکھائی دیتا ہے۔ معروف سائنسی و تفریحی پلیٹ فارم پر شائع ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی آف واروک کے ماہرینِ فلکیات نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ مردہ یا مرجھائے ہوئے ستارے جنہیں ‘وائٹ ڈوارفس’ (White Dwarfs) کہا جاتا ہے، روایتی سفید یا ہلکے نیلے رنگ کے علاوہ ایک مکمل رنگین قوسِ قزح کی مانند گلابی (Pink)، پیلے (Yellow) اور جامنی (Purple) سمیت کئی ایسے انوکھے رنگوں میں چمک سکتے ہیں جن کا سائنسدانوں نے کبھی خواب میں بھی تصور نہیں کیا تھا۔
سفید بونے ستارے (White Dwarfs) اور ان کے روایتی اصولوں کی نفی
روایتی طور پر فلکیات میں یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ کسی بھی ستارے کا رنگ اس کے درجہ حرارت (Temperature) پر منحصر ہوتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے لوہار کی بھٹی میں لوہا پہلے سرخ، پھر نارنجی اور انتہائی گرم ہونے پر سفید یا نیلگوں ہو جاتا ہے۔ ماہرین کا خیال تھا کہ سفید بونے ستارے، جو اپنے زندگی کے آخری مراحل میں داخل ہو کر اپنے بیرونی پرتوں کو کھو دیتے ہیں، صرف سفید یا مدہم نیلے رنگ کی روشنی خارج کرتے ہیں۔
تاہم، واروک یونیورسٹی کے ماہرین کی ایک تحقیقی ٹیم نے (جو کہRAS Techniques and Instrumentsنامی جریدے میں شائع ہوئی ہے) موجودہ اسپیکٹرل ڈیٹا کو انسانی رنگین بینائی (Human Color Vision Models) کے ماڈلز سے گزار کر جب ان ستاروں کے ظاہری رنگوں کا حساب لگایا، تو یہ حقیقت سامنے آئی کہ ان ستاروں کی انتہائی گنجان فضا (Dense Atmosphere) اور کیمیائی ساخت ان کے رنگوں کو مکمل طور پر تبدیل کر دیتی ہے۔
پہلا سبز ستارہ: سیاروی باقیات کو نگلنے کا نتیجہ
تحقیق کا سب سے دلچسپ اور سنسنی خیز پہلو یہ ہے کہ محققین نے WD J1330+6435 نامی ایک ایسے سفید بونے ستارے کی نشاندہی کی ہے جو انسانی آنکھ کو ایک پراسرار اور خوبصورت سبز رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔
سبز رنگ کی وجہ:یہ ستارہ اپنی زندگی کے آخری دور میں اپنے اردگرد موجود سیاروں اور پتھریلی ملبے (Planetary Debris) کو ہڑپ کر چکا ہے جس کی وجہ سے اس کی فضا میں کیلشیم، لتیم اور سوڈیم کے ذرات شامل ہو گئے ہیں۔
روشنی کا جذب ہونا: فضا میں موجود سوڈیم کے ایٹمز ستارے کی روشنی کے نارنجی اور زرد حصے کو مکمل طور پر جذب (Absorb) کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں پیچھے صرف ایک مدہم اور سحر انگیز سبز رنگ کی چمک باقی رہ جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے سیارے سے دیکھنے پر یہ منظر کسی سائنس فکشن فلم جیسا محسوس ہوتا ہے۔
گلابی، پیلے اور جامنی رنگ کے پراسرار ستارے
اس تحقیق کے دوران صرف سبز ستارہ ہی دریافت نہیں ہوا بلکہ سفید بونے ستاروں کی ایک بڑی رینج سامنے آئی ہے:
1. گلابی ستارے (Pink White Dwarfs):یونیورسٹی آف واروک کی نئی سائنسی تحقیق: سفید بونے ستارے (White Dwarfs) توقعات کے برعکس سبز، پنک اور نیلگوں رنگوں میں چمکتے ہیںسالمن پنک رنگ کا دکھائی دیتا ہے۔
2. پیلے اور جامنی ستارے: ستاروں کی فضا میں موجود ہائیڈروجن اور ہیلیم کے مالیکیولز کا باہمی تعامل اور کائناتی ملبے کی آلودگی انہیں ہلکے پیلے یا جامنی رنگ میں تبدیل کر دیتی ہے۔
3. تعداد کا تناسب: زمین سے 20 پارسیک (تقریباً 65 نوری سال) کے اندر موجود 151 سفید بونے ستاروں کے سروے سے پتہ چلا ہے کہ ان میں سے تقریباً ہر 30 میں سے 1 ستارہ ان غیر روایتی اور رنگین امتزاجات کا حامل ہوتا ہے، جبکہ اوسطاً اکثریت اب بھی سفید ہی دکھائی دیتی ہے۔
یہ نئی دریافت کائنات کے اسرار کو سمجھنے اور مرنے والے ستاروں کے بعد کے حالات کا احاطہ کرنے میں ایک سنگِ میل ثابت ہو رہی ہے۔









