ڈیلاس/واشنگٹن: امریکہ میں متعین سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ نے امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سرمایہ کاروں کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے آئی ٹی سیکٹر میں اشتراکِ عمل اور منافع بخش مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی دعوت دے دی ہے۔ ریاست ٹیکساس کے تجارتی و مالیاتی مرکز ڈیلاس میں منعقدہ “پاک۔امریکہ ٹیک کنیکٹ2026کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان اور امریکہ کے درمیان ٹیکنیکی تعاون، سرمایہ کاری اور طویل مدتی تجارتی ساجھے داریوں کو فروغ دینے پر زور دیا۔
یہ اہم کانفرنس سفارت خانہ پاکستان واشنگٹن ڈی سی، قونصل خانۂ پاکستان ہیوسٹن، وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن اور پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) کے باہمی اشتراک سے منعقد کی گئی۔ اس تقریب کا بنیادی مقصد امریکی مارکیٹ میں پاکستان کی رسائی کو بڑھانا اور دیرپا تکنیکی شراکت داریوں کو قائم کرنا ہے۔
کانفرنس میں 13 ممتاز پاکستانی ٹیک کمپنیوں، امریکی کاروباری شخصیات، سرمایہ کاروں اور پاکستانی نژاد امریکی کمیونٹی نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔آئندہ کا شیڈول کے مطا بق پاک۔امریکہ ٹیک کنیکٹ 2026سیریز کے تحت آئندہ کانفرنسیں 21 اکتوبر کو واشنگٹن ڈی سی اور 23 اکتوبر 2026 کو شکاگو میں منعقد ہوں گی۔
سفیرِ پاکستان رضوان سعید شیخ کا خطاب:کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سفیر رضوان سعید شیخ نے کہا کہ امریکہ عالمی ٹیکنالوجی کا مرکز اور پاکستان کی سب سے بڑی آئی ٹی برآمدی مارکیٹ ہے۔ ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت (AI) میں دوطرفہ اقتصادی تعاون کے کھلے مواقع موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی تقریباً 60 فیصد سے زائد آبادی 30 سال سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے جو ہمارا قومی اثاثہ ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد محض اپنی صلاحیتوں کی نمائش نہیں بلکہ عالمی معیار کے مطابق بامعنی تجارتی روابط استوار کرنا ہے۔
>
> انہوں نے تارکینِ وطن پاکستانیوں پر زور دیا کہ وہ پاکستان کو ایک قابلِ اعتماد اور مسابقتی ٹیکنالوجی partner کے طور پر متعارف کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔
پاکستان آئی ٹی انڈسٹری کی کارکردگی اور اعداد و شمار:اس موقع پر سی ای او پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ (PSEB) نے بھی آئی ٹی صنعت کی ترقی سے متعلق اہم اعداد و شمار پیش کیے کہ پاکستان ہر سال تقریباً 70 ہزار آئی ٹی اور کمپیوٹر سائنس گریجویٹس تیار کر رہا ہے۔
گزشتہ چار برس کے دوران پاکستان کی آئی ٹی برآمدات میں اوسطاً 21 فیصد سالانہ اضافہ ہوا، جبکہ ستمبر 2026 میں برآمدات کا حجم تقریباً 435 ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔کانفرنس کے دوران پاکستانی کمپنیوں نے مصنوعی ذہانت، کلاؤڈ کمپیوٹنگ، سائبر سیکیورٹی، فن ٹیک اور انٹرپرائز سلوشنز میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پریزنٹیشنز دیں۔ پی ایس ای بی (PSEB) نے سرمایہ کاروں کی معاونت کے لیے اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ساتھ مل کر تمام درپیش مسائل حل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔









