واشنگٹن/تل ابیب: امریکی میڈیا نیٹ ورک کی تازہ ترین اور تفصیلی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ایک ویڈیو کال کے دوران یہ واضح عندیہ دیا کہ ایران کے خلاف عسکری اور دفاعی کارروائی کا سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی اس اہم گفتگو نے بین الاقوامی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، کیونکہ اس سے خطے میں ایک بار پھر بڑے پیمانے پر فوجی تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔ نیتن یاہو نے گفتگو کے دوران دوٹوک انداز میں کہا، ڈونلڈ، ہمارا ایک کام ابھی باقی ہے،” اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ امریکہ اور اسرائیل مل کر اس ہدف کو تکمیل تک پہنچائیں گے۔ یہ اہم سفارتی و عسکری تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب اسرائیل میں آئندہ 27 اکتوبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو کی دوبارہ انتخاب میں کامیابی کی بھرپور حمایت اور توثیق کا اعلان کیا ہے۔
نیتن یاہو اور ٹرمپ کی ویڈیو کال اور انتخابی پس منظر
ذرائع کے مطابق، اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مابین یہ رابطہ ایسے حساس وقت میں ہوا ہے جب اسرائیل اندرونی سیاسی تبدیلیوں اور بیرونی سکیورٹی چیلنجز دونوں کا بیک وقت سامنا کر رہا ہے۔
سیاسی حمایت اور عسکری تال میل:
صدر ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کرنے کے فیصلے کو سیاسی حلقوں میں انتہائی اہمیت دی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی یہ حمایت نیتن یاہو کے لیے انتخابی میدان میں ایک بڑا بریک تھرو ثابت ہو سکتی ہے۔
مشترکہ تزویراتی اہداف:
ویڈیو کال کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ایران کی طرف سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کو آئندہ بھی شانہ بشانہ کام کرنا ہوگا۔ نیتن یاہو کا یہ کہنا کہ “ہمارا کام ابھی باقی ہے” اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ دونوں ممالک تہران کے خلاف مزید سخت اقدامات یا سٹریٹجک کارروائیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔
دفاعی اور سکیورٹی تعاون:
واشنگٹن اور تل ابیب کے عسکری حلقے طویل عرصے سے مشرق وسطیٰ کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے انٹیلی جنس اور دفاعی ٹیکنالوجی کا تبادلہ کر رہے ہیں، اور تازہ ترین گفتگو اسی تعاون کو مزید گہرا کرنے کی کڑی ہے۔
تہران کا ردعمل اور سفارتی ڈیڈ لاک
دوسری جانب، تہران کی حکومت اور عسکری قیادت کی طرف سے بھی اس صورتحال پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔ ایران کے اعلیٰ سکیورٹی حکام نے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ اس وقت تک کسی بھی قسم کے مذاکرات کا آغاز ممکن نہیں جب تک امریکہ کی طرف سے اعتماد سازی کے عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
1.جنرل محسن رضائی کا بیان:
ایرانی سکیورٹی کے موثر عہدیدار جنرل محسن رضائی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ اس وقت تک میز پر نہیں بیٹھے گا جب تک امریکہ دوطرفہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بھرپور اعتماد بحال کرنے کی فضا قائم نہیں کرتا۔
2. جوہری مواد سے متعلق مؤقف:
ایرانی حکام نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا ہے کہ تہران دباؤ کے سامنے سرنگوں نہیں ہوگا اور وہ اپنے افزودہ جوہری مواد کا ایک انچ بھی کسی بیرونی طاقت کے حوالے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ اس مؤقف نے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری سفارتی ڈیڈ لاک کو مزید طویل کر دیا ہے۔
3.علاقائی طاقتوں کا کردار:
خطے کے دیگر ممالک بھی اس کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ ایران اور اسرائیل کے درمیان براہِ راست یا پراکسی محاذ آرائی پوری دنیا خصوصاً مشرق وسطیٰ کی معیشت اور تیل کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز کے قریب جہاز پر حملہ اور بحری سکیورٹی بحران
خطے میں کشیدگی صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ عملی طور پر بھی اہم تجارتی راستے نشانہ بن رہے ہیں۔ برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سنٹر (UKMTO) کی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز کے قریب ایک خطرناک بحری واقعہ پیش آیا ہے جس نے بین الاقوامی میری ٹائم سکیورٹی کیٹیگری میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ٹینکر پر نامعلوم پروجیکٹائل سے حملہ:
بدھ کے روز عمان کے ساحل پر واقع شہر بکح سے تقریبا 11 سمندری میل مغرب میں ایک تجارتی تیل بردار ٹینکر کو ایک نامعلوم پروجیکٹائل نے نشانہ بنایا۔ یہ حملہ آبنائے ہرمز کے انتہائی حساس اور مصروف بحری کوریڈور کے قریب ہوا۔
عملے کی حفاظت اور آگ پر قابو: حملے کے نتیجے میں ٹینکر کے ایک حصے میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، تاہم بروقت کارروائی کرتے ہوئے آگ پر قابو پا لیا گیا۔ خوش قسمتی سے اس حادثے میں جہاز کا تمام عملہ محفوظ رہا اور ٹینکر کو بحفاظت قریبی لنگر گاہ پر منتقل کر دیا گیا ہے۔
عالمی تجارت کے لیے خطرہ:
آبنائے ہرمز دنیا بھر کے تیل کی ترسیل کا سب سے اہم ترین بحری راستہ ہے، اور اس گزرگاہ کے قریب اس قسم کے حملے بین الاقوامی تجارت، جہاز رانی اور سپلائی چین کے لیے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
برطانیہ کا سعودی عرب کے لیے دفاعی ڈھال کا اعلان
مشرق وسطیٰ کے بدلتے ہوئے سکیورٹی منظر نامے میں برطانیہ نے بھی خطے میں اپنی دفاعی موجودگی کو فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ اتحادی ممالک کے اہم تنصیبات کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے برطانوی دفاعی حکام نے اس حوالے سے باضابطہ لائحہ عمل کا اعلان کیا ہے۔
1.برطانوی فضائیہ کے ٹائفون طیاروں کی تعیناتی:
برطانیہ کے وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ (Wes Streeting) نے اعلان کیا ہے کہ رائل ایئر فورس (RAF) کے جدید ترین ٹائفون جنگجو طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود میں باقاعدگی سے دفاعی گشت کریں گے۔
2.شہروں اور انفراسٹرکچر کا تحفظ:
ان فضائی گشتوں کا بنیادی مقصد سعودی عرب کے اہم شہروں، تجارتی مراکز اور سٹریٹجک تنصیبات کو یمن کی جانب سے ہونے والے حوثی ڈرون اور میزائل حملوں سے محفوظ بنانا ہے۔
3.دفاعی بمقابلہ جارحانہ حکمت عملی:
وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے یہ نکتہ واضح کیا کہ برطانوی ٹائفون طیارے آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو فضا میں ہی روک کر تباہ کرنے (مداخلت کرنے) کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں، تاہم یہ طیارے زمین پر موجود حوثی اہداف پر براہ راست کوئی بمباری یا جارحانہ حملے نہیں کریں گے۔ ان کا یہ اقدام خطے میں اتحادی ممالک کے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ایک سکیورٹی شیلڈ کا کردار ادا کرے گا۔
مجموعی طور پر، صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی حالیہ بات چیت، ایران کا سخت گیر مؤقف، آبنائے ہرمز میں بحری جہاز پر ہونے والا حملہ اور برطانیہ کی جانب سے سعودی عرب کی فضائی حدود میں دفاعی گشت کا فیصلہ اس بات کا غماز ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک بار پھر کسی بڑے تنازع یا تزویراتی تبدیلی کے دہانے پر کھڑا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں یہ تمام واقعات دنیا بھر کی سیاست، توانائی کی قیمتوں اور عالمی عسکری حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کریں گے، جبکہ تمام فریقین اپنے اپنے سٹریٹجک اہداف کے حصول کے لیے دباؤ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں۔









