واشنگٹن: بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق پینٹاگون کے سابق سینئر اہلکار اوریو اے پی (Unidentified Anomalous Phenomena) ٹاسک فورس کے سابق ڈائریکٹر جے اسٹریٹن (Jay Stratton) نے ایک سنسنی خیز انکشاف کیا ہے۔ جے اسٹریٹن، جنہوں نے امریکی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے خلائی مخلوق اور نامعلوم پرواز کرنے والی اشیاء کی تحقیقات میں اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صرف کیا، اپنی نئی شائع ہونے والی آپ بیتی “Out of the Shadows: Revealing the Truth About Non-Human Intelligent Life میں دعویٰ کرتے ہیں کہ جب وہ غیر ارضی مخلوق کی تلاش اور تحقیقات میں مصروف تھے، تو وہ خود بھی ان پراسرار اور غیر انسانی مخلوقات کی زیرِ نگرانی اور نشانے پر تھے۔
جے اسٹریٹن نے اپنے گھر کے باہر پیش آنے والے ایک عجیب و غریب اور خوفناک واقعے کی تفصیلات بیان کیں:
کھڑکی کے پاس عجیب الخلقت وجود:
اسٹریٹن نے بتایا کہ واشنگٹن ڈی سی کے قریب واقع ان کی رہائش گاہ پر ایک صبح سویرے جب ان کی آنکھ کھلی تو انہوں نے اپنے گھر کے پاس ایک انتہائی عجیب مخلوق کو دیکھا۔
جسمانی ساخت کی تفصیل:
جے اسٹریٹن کے الفاظ میں: “میں نے ابتدائی طور پر جس چیز کا مشاہدہ کیا وہ ایک انسانی شکل جیسی مخلوق تھی… جو کھڑکی کے ذریعے میرے بیٹے کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا سر بہت بڑا تھا، آنکھیں چھوٹی اور گہری سیاہ تھیں، جبکہ ناک بالکل معمولی سی اور منہ کی جگہ صرف ایک چھوٹی سی دراڑ تھی۔
سیکنڈوں میں غائب ہونا:
اسٹریٹن نے بتایا کہ جیسے ہی ان کی نظریں اس مخلوق سے ملیں، انہوں نے بغیر وقت ضائع کیے اس کا تعاقب کرنے کے لیے قدم بڑھایا۔ تاہم، “جب تک میں باہر پہنچا، وہ مخلوق مکمل طور پر غائب ہو چکی تھی اور وہاں اس کا کوئی نشان یا سراغ باقی نہیں تھا۔
تحقیقاتی دور کا پس منظر:
انہوں نے مزید بتایا کہ اس قسم کے پرسرار واقعات 2010 کی دہائی میں شروع ہوئے تھے، یعنی ان سالوں بعد جب انہوں نے پینٹاگون کی ملٹری انٹیلی جنس شاخ کے لیےنامعلوم غیر معمولی مظاہرہ کی تحقیقات کا باقاعدہ آغاز کیا تھا۔ وہ امریکی دفاعی ادارے کی اس خاص ٹاسک فورس کے سربراہ تھے جو یو ایف اوز سے متعلق قومی سلامتی کے خطرات کا جائزہ لیتی تھی۔
پینٹاگون کا خفیہ پروگرام اور عالمی سپر پاور بننے کی دوڑ
اپنی نئی کتاب میں جے اسٹریٹن نے پینٹاگون کے ان تمام خفیہ سکیورٹی پروجیکٹس اور کوششوں کو قلمبند کیا ہے جو امریکی عسکری تنصیبات اور اثاثوں کی طرف متوجہ ہونے والی نامعلوم چیزوں کی تحقیقات کرتے ہیں:
1. غیر انسانی ٹیکنالوجی کا وجود:
جے اسٹریٹن اس نظریہ اور شواہد کی مکمل حمایت کرتے ہیں کہ امریکی وفاقی محکموں اور دفاعی ٹھیکیداروں کے پاس ایک انتہائی محتاط اور خفیہ “لیگیسی پروگرام” کے تحت غیر انسانی ٹیکنالوجی، جدید آلات اور خلائی جہازوں کے ٹکڑے موجود ہیں۔
2. عالمگیر ٹیکنالوجی کی دوڑ:
اسٹریٹن کا کہنا ہے کہ صرف امریکہ ہی نہیں بلکہ اس کے حریف اور مخالف ممالک نے بھی اس قسم کی نان ہیومن (غیر انسانی) ٹیکنالوجی کے کچھ اجزاء حاصل کر رکھے ہیں۔ اس وقت دنیا کی بڑی طاقتوں کے درمیان ایک شدید اور خفیہ دوڑ جاری ہے تاکہ اس ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں اور رازوں کو سمجھا جا سکے۔
3. آئندہ سو سال کی سپر پاور:
جے اسٹریٹن نے خبردار کرتے ہوئے واضح کیا کہ “جو بھی ملک اس غیر انسانی ٹیکنالوجی کے راز کھولنے اور اس کو کنٹرول کرنے کی اس دوڑ کو جیتے گا، وہی اگلی صدی یعنی آئندہ ۱۰۰ سال کے لیے دنیا کی واحد اور حتمی سپر پاور بن کر سامنے آئے گا۔
کتاب کی حکومتی منظوری اور ٹاسک فورس کی ریٹائرمنٹ
جے اسٹریٹن، جنہوں نے 2022 میں امریکی حکومت اور پینٹاگون کی ملازمت سے باقاعدہ ریٹائرمنٹ حاصل کی تھی، نے بتایا کہ ان کی اس کتاب کا مسودہ شائع ہونے سے پہلے امریکی وفاقی ایجنسیوں نے باریک بینی سے ریویو کیا ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ اس میں قومی سلامتی سے جڑا کوئی کلاسیفائیڈ یا خفیہ عسکری مواد شامل نہ ہو۔
پینٹاگون کے سابق ڈائریکٹر جے اسٹریٹن کے ان سنسنی خیز اور حیران کن انکشافات نے ایک بار پھر خلائی مخلوق، یو ایف اوز اور امریکی حکومت کے خفیہ خلائی پروگراموں سے متعلق عالمی سطح پر جاری بحث کو شدید تر کر دیا ہے۔









