لندن/واشنگٹن: بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی تفصیلی اور سنسنی خیز رپورٹ کے مطابق، شاہی خاندان میں سالوں سے جاری شدید اختلافات، عوامی الزامات اور گہری دراڑ کے بعد، برطانوی شہزادے اور ڈیوک آف سسیکس ہیری نے اپنے خاندان کے ساتھ تمام تنازعات کو ختم کرنے اور تعلقات کو بحال کرنے کی شدید خواہش کا اظہار کیا ہے۔ جی کیو (GQ) میگزین کے ساتھ ایک خصوصی ویڈیو انٹرویو میں معروف صحافی زیک بارون (Zach Baron) سے گفتگو کرتے ہوئے شہزادہ ہیری نے اپنے والد کنگ چارلس اور اپنے بڑے بھائی شہزادہ ولیم کے ساتھ اپنے انتہائی پیچیدہ، حساس اور کشیدہ تعلقات کی موجودہ صورتحال پر کھلم کھلا بات کی ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اب ماضی کو پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔
شاہی اختلافات، رشتوں کا دکھ اور بحالی کی امید
انٹرویو کے دوران جب صحافی نے شہزادہ ہیری سے پوچھا کہ کیا وہ شاہی خاندان سے پیدا ہونے والی اس طویل دوری اور رشتوں کے خاتمے کا دکھ اور غم محسوس کرتے ہیں؟ تو انہوں نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے اس بات کا اعتراف کیا:
رشتوں میں فاصلے کا دکھ:
شہزادہ ہیری نے جواب دیتے ہوئے کہا: “جی ہاں، بالکل۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس سے میں غمزدہ ہوتا ہوں اور یہ دنیا کے بے شمار لوگوں کے لیے ایک انتہائی قابلِ فہم اور ملتا جلتا مسئلہ ہے۔ مجھ سے بات کرنے والے عام لوگ اکثر اس قسم کے خاندانی تنازعات کا ذکر کرتے ہیں، اسی لیے لوگ شاید ہمیں دیکھ کر یہ سوچتے ہیں کہ ہم ان مسائل کو کیسے حل کریں گے۔”
صلح اور راستے نکالنے کی خواہش:
شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے لوگ ان کے خاندان کی طرف دیکھ کر اپنے مسائل حل کرنے کا طریقہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا: “کچھ لوگ شاید یہ نہیں چاہتے کہ ہمارے درمیان معاملات درست ہوں، لیکن میں ذاتی طور پر یہ دل سے چاہتا ہوں کہ میرے خاندان کے ساتھ تمام معاملات اور اختلافات مکمل طور پر ٹھیک ہو جائیں۔”
ماضی کو بھولنے کا مشورہ:
نیویارک کے ستمبر کے دورے کے دوران دیے گئے اس انٹرویو میں ہیری نے کہا کہ ماضی کی تلخیاں اور زخموں کے نشانات انسان کے ساتھ ہمیشہ رہتے ہیں، لیکن انسان کی سوچ اور نقطہ نظر سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر آگے بڑھنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا میں پہلے ہی بہت سے مسائل اور ڈرامے موجود ہیں، اس لیے خاندانی تنازعات کو بلاوجہ جاری رکھنے کی کوئی تک نہیں بنتی۔
ترجمان کی وضاحت اور شہزادہ ولیم کے ساتھ موجودہ تعلقات
شہزادہ ہیری کے اس بیان کے بعد کہ کچھ لوگ صلح نہیں چاہتے، عالمی میڈیا اور شاہی مبصرین میں مختلف قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں کہ شاید یہ اشارہ ان کے بھائی شہزادہ ولیم یا شاہی محل کی طرف تھا۔ تاہم، اس تاثر کو زائل کرنے کے لیے شہزادہ ہیری کے ترجمان نےپیپل میگزین(People Magazine) کو باضابطہ وضاحت جاری کی:
1. بیان پر باضابطہ وضاحت:
ترجمان نے واضح کیا کہ ہیری کا “کچھ لوگ صلح نہیں چاہتے” والا جملہ ان کے بھائی شہزادہ ولیم یا شاہی خاندان کے کسی بھی فرد کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ حملہ نہیں تھا۔ یہ تبصرہ ایک عام عالمی اور اجتماعی تناظر میں کیا گیا تھا اور اس کا مقصد خاندان کے کسی خاص رکن کو نشانہ بنانا بالکل نہیں تھا۔
2.سابقہ اختلافات اور اوپرا انٹرویو کا پس منظر:
شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگن مارکل کی جانب سے مشہور اینکر اوپرا ونفرے کو دیے گئے انٹرویو اور بعد میں ہیری کی شائع ہونے والی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب “اسپیئر” (Spare) کے بعد سے دونوں بھائیوں کے درمیان تعلقات تقریباً مکمل طور پر ختم ہو چکے ہیں۔ اس کتاب میں ہیری نے اپنے بھائی ولیم پر جسمانی تلخی اور شاہی خاندان کے دیگر افراد پر نسل پرستی اور تعصب کے حوالے سے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
3.شاہی نامہ نگاروں کا تجزیہ:
بین الاقوامی شاہی صحافیوں اور مبصرین کے مطابق، اگرچہ شہزادہ ہیری اور ان کی ٹیم کی طرف سے رابطے کی کچھ کوششیں کی گئی ہیں، لیکن فی الحال شہزادہ ولیم کی اپنے بھائی ہیری سے بات چیت میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں ہو رہی اور دونوں کے درمیان بات چیت مکمل طور پر بند ہے۔
مجموعی طور پر، شہزادہ ہیری کی طرف سے سامنے آنے والا یہ نیا بیان اس بات کا ثبوت ہے کہ شاہی محل اور امریکہ میں مقیم ڈیوک آف سسیکس کے درمیان فاصلے گھٹانے کا ایک سنہری موقع موجود ہے، بشرطیکہ برطانوی شاہی محل اور کنگ چارلس کی جانب سے ان کی اس پیش رفت کا مثبت جواب دیا جائے۔ عالمی میڈیا اور شاہی خاندان کے مداح اب اس بات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا شہزادہ ہیری کی صلح کی یہ اپیل شاہی محل کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آ جائے گی یا آنے والے دنوں میں دونوں بھائیوں کے درمیان سالوں پرانی برف پگھل سکے گی۔









