بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مونچھوں والے بچے کی پیدائش، وائرل ویڈیو کی حقیقت سامنے آگئی

سوشل میڈیا (social media)پر ایک نومولود بچے کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہی ہے، جس میں اس کے ہونٹوں کے اوپر سیاہ مونچھیں دکھائی دے رہی ہیں۔

یہ ویڈیو انٹرنیٹ کے مختلف پلیٹ فارمز پر لاکھوں بار دیکھی جا چکی ہے۔

ویڈیو کے سامنے آتے ہی جہاں ایک طرف لوگوں میں شدید حیرت اور تجسس پیدا ہوا، وہیں دوسری طرف صارفين نے اس پر دلچسپ تبصرے اور مزاحیہ خاکے بنانا شروع کر دیے ہیں۔


سوشل میڈیا صارفین نے ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے بچے کے اس مضحکہ خیز روپ کا خوب مذاق اڑایا۔

مزیدپڑھیں: امریکی ایف ڈی اے کا 40 لاکھ سے زائد ٹوتھ پیسٹ ٹیوبز واپس منگوانے کا فیصلہ

ایک صارف نے لکھا کہ یہ بچہ نرسری اور اسکول کے دن چھوڑ کر سیدھا زندگی کے درمیانی حصے کے مسائل اور پریشانیوں میں داخل ہو گیا ہے۔


ایک اور صارف نے مزاحیہ انداز میں لکھا یہ بچہ تو پیدائشی طور پر ریٹائرڈ، تین بچوں کا باپ اور دو مکانوں کا مقروض لگتا ہے۔


بات صرف تبصروں تک ہی محدود نہیں رہی بلکہ صارفین نے بچے کی تصویر کو لے کر کئی طرح کی ایڈٹ شدہ تصاویر بنانا شروع کر دیں۔ ایک وائرل تصویر میں بچے کو فوجی وردی اور تمغوں کے ساتھ ایک میز کے پیچھے صدارتی انداز میں بٹھایا گیا جس پر لکھا تھا کہ چھوٹے ہاتھ اور بڑے منصوبے۔


ایک اور ترمیم شدہ تصویر میں بچے کو بزنس سوٹ میں سگار پیتے ہوئے دکھایا گیا۔


ایک اور تصویر میں اسے مشہور ویڈیو گیم کے کردار ماریو کے روپ میں سرخ ٹوپی اور اوورآل کے ساتھ پیش کیا گیا۔


اس کے علاوہ ایک تصویر میں بچے کو قدیم ہان جنگجو کی زرہ بکتر اور لوہے کا ٹوپ پہنا کر دکھایا گیا۔


اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی یہ سوال بھی اٹھنے لگا کہ کیا واقعی طبی لحاظ سے کوئی بچہ مونچھوں کے ساتھ پیدا ہو سکتا ہے۔

بھارتی ویب سائٹ ویون کی ایک رپورٹ کے مطابق طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کچھ نوزائیدہ بچوں کے جسم پر پیدائش کے وقت بہت باریک اور نرم بال موجود ہوتے ہیں جنہیں طبی زبان میں لانوگو کہا جاتا ہے۔

یہ بال دورانِ حمل بچے کی جلد کی حفاظت کے لیے بنتے ہیں اور معمول کے مطابق پیدائش کے بعد یا کچھ ہی عرصے میں خود ہی ختم ہو جاتے ہیں۔

یہ بال جسم کے مختلف حصوں جیسے پیٹھ، کندھوں، کانوں اور چہرے پر بھی ہو سکتے ہیں لیکن یہ بے حد پتلے اور ہلکے رنگ کے ہوتے ہیں۔

طبی سائنس کے مطابق یہ بال کبھی بھی اتنے گھنے اور باقاعدہ تراشیدہ نہیں ہو سکتے جتنے اس ویڈیو میں نظر آ رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی پوسٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی مونچھیں ڈیجیٹل ایڈیٹنگ یا مصنوعی ذہانت سے بنائے گئے فلٹر کا نتیجہ ہیں۔

یہ بال بچے کی ماں کے پیٹ میں نشوونما کے دوران بنتے ہیں اور عموماً پیدائش سے پہلے یا پیدائش کے کچھ عرصے بعد خود ہی ختم ہوجاتے ہیں۔ یہ بال کمر، کندھوں، کانوں اور چہرے پر بھی دکھائی دے سکتے ہیں۔

تاہم، لانوگو کے بال عموماً بہت باریک اور نرم ہوتے ہیں۔ ان کی شکل عام طور پر کسی بالغ شخص کی گھنی اور واضح مونچھوں جیسی نہیں ہوتی۔ اسی لیے وائرل ویڈیو میں نظر آنے والی مونچھوں کو قدرتی بال قرار دینے کے لیے قابلِ اعتماد طبی ثبوت موجود نہیں۔

رپورٹ میں ویڈیو کا جائزہ لینے والی مختلف رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ بچے کے چہرے پر نظر آنے والی مونچھوں میں کچھ ایسی خامیاں دکھائی دیتی ہیں جو ڈیجیٹل تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔

مثال کے طور پر، بچے کے سر اور چہرے کی حرکت کے ساتھ مونچھوں کی حرکت قدرتی دکھائی نہیں دیتی۔ بچے کے ہلنے یا اشارے کرنے کے دوران مونچھوں میں معمولی تبدیلیاں اور جھلملانے جیسی کیفیت بھی نظر آتی ہے۔

اس کے علاوہ، مونچھوں پر روشنی پڑنے کا انداز بھی بچے کے چہرے اور اسپتال کے کمرے میں موجود روشنی اور سائے سے مختلف محسوس ہوتا ہے۔ یہ نشانیاں اس امکان کو تقویت دیتی ہیں کہ مونچھیں کسی ڈیجیٹل فلٹر یا ایڈیٹنگ ٹول کے ذریعے شامل کی گئی ہوں۔

رپورٹ کے مطابق، اس مخصوص واقعے کی تصدیق کے لیے کسی اسپتال، ڈاکٹر یا طبی ریکارڈ کی قابلِ اعتماد معلومات بھی سامنے نہیں آئیں۔ اس لیے ماہرین کا ماننا ہے کہ ویڈیو ایک عام اسپتال میں ریکارڈ کی گئی اصل بچے جیسی ہے، لیکن وائرل کرنے کی غرض سے اس پر آرٹیفیشل انٹیلی جنس یا کسی فلٹر کے ذریعے مصنوعی مونچھیں لگائی گئی ہیں۔