مشہور عالمی فاسٹ فوڈ چین میکڈونالدز (McDonald’s) نے فیفا (FIFA) ورلڈ کپ کے ساتھ اپنی 32 سالہ طویل اور تاریخی اسپانسرشپ کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ کمپنی کے اس فیصلے کو عالمی مارکیٹنگ اور ایڈورٹائزنگ کی دنیا میں ایک بہت بڑی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت رواں سال کے آخر میں موجودہ معاہدے کی معیاد پوری ہونے پر اس کی تجدید نہیں کی جائے گی۔ میکڈونالدز نے اپنی عالمی مارکیٹنگ کی حکمت عملی کو روایتی اور مہنگے اسپورٹس میگا ایونٹس سے ہٹا کر اب اپنی ذاتی برانڈ پراپرٹیز، تخلیقی مواد، ڈیجیٹل میڈیا اور کرئیٹر کولیابریشنز پر مرکوز کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے۔
مارکیٹنگ اور میڈیا ذرائع کے مطابق یہ اہم فیصلہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب میکڈونالدز نے معروف تخلیقی ایجنسی ‘ویڈن اینڈ کینیڈی’ (Wieden+Kennedy) کے تعاون سے اپنی تاریخ کی سب سے بڑی ورلڈ کپ مہم کامیابی کے ساتھ مکمل کی ہے۔ طویل عرصے سے فٹبال کے عالمی میلوں کا حصہ رہنے والی اس بڑی کمپنی کا پیچھے ہٹنا اس بات کا غماز ہے کہ اب گلوبل برانڈز روایتی اسپورٹس اسانسرشپس کے مالیاتی اخراجات اور ان کے تناسب سے ملنے والے فوائد کا ازسرنو جائزہ لے رہے ہیں۔
اس اسٹریٹجک تبدیلی کے بعد اب میکڈونالدز کی بنیادی ترجیحات میں براہ راست صارفین کو جوڑنے والے ذرائع، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور برانڈڈ انٹرٹینمنٹ شامل ہوں گے۔ مارکیٹنگ کے ماہرین کا ماننا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں اشتہاری دنیا کے رجحانات میں زمین آسمان کا فرق آ چکا ہے۔ روایتی ٹیلیویژن اور گراؤنڈ اسپورٹس کے مقابلے میں اب نوجوان نسل اور ڈیجیٹل صارفین تک رسائی کے لیے ڈیجیٹل انفلونسرز، سوشل میڈیا مہمات اور اپنی ذاتی فکری ملکیت (Owned IP) کی تشکیل کو زیادہ مؤثر سمجھا جا رہا ہے۔
میکڈونالدز کا یہ قدم اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ آنے والے دنوں میں دیگر کثیر القومی کمپنیاں بھی اپنے اشتہاری بجٹ کو روایتی کھیلوں کے بڑے میدانوں سے نکال کر ڈیجیٹل اور ٹیکنالوجی بیسڈ پلیٹ فارمز کی طرف منتقل کر سکتی ہیں۔ اگرچہ فیفا ورلڈ کپ کے ساتھ یہ طویل رشتہ ختم ہو رہا ہے، لیکن کمپنی کا خیال ہے کہ اس سے ملنے والے تجربات اور نئی حکمت عملی برانڈ کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ صارفین اور کاروباری حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا جا رہا ہے، تاہم تجارتی اور مارکیٹنگ کے نقطہ نظر سے اسے ایک بڑا اسٹریٹجک موڑ مانا جا رہا ہے۔









