بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خطے میں امن کی کوششیں تیز، مکہ اتحاد ممالک اور ایران کا اجلاس جاری

خطے میں قیام امن کی جاری کوششوں کے سلسلے میں مکہ اتحاد کے رکن ممالک اور ایران کا اجلاس تہران میں جاری ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق اجلاس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، ترکیہ کے انٹیلی جنس چیف ابراہیم قالن، ایرانی صدر صدر مسعود پزشکیان ،ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہیں۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر آج تہران کا سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک کی آج ایرانی حکام سے ملاقات ہوگی۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے اعلیٰ حکام اجلاس میں شریک ہوں گے۔

اس سے قبل ایران کی وزارت خارجہ نے تصدیق کی تھی کہ مکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک بشمول ترکی، سعودی عرب اور پاکستان کے وفود آج تہران کا دورہ کریں گے۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ تہران میں اس مشترکہ اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اپنے حالیہ دورۂ ایران کے دوران پیش کی تھی۔

اسماعیل بقائی نے بتایا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا اجلاس ہو گا، جس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ اجلاس میں مختلف علاقائی اور سکیورٹی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جن میں ایران اور امریکہ کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی بھی شامل ہے۔ بقائی کے مطابق خطے کی صورتحال، علاقائی سلامتی اور باہمی تعاون کے مختلف پہلو اس اجلاس کے اہم موضوعات ہوں گے۔

دوسری جانب سعودی عرب کے نائب وزیر برائے پبلک ڈپلومیسی ڈاکٹر راید کریملی نے کہا ہے کہ وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان آج تہران میں مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک (پاکستان، ترکی اور سعودی عرب) اور ایرانی رہنماؤں کے درمیان ہونے والے اجلاسوں کے دوران سعودی وفد کی قیادت کریں گے۔

ایکس پر اپنے بیان میں ڈاکٹر راید کا کہنا تھا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کے نمائندے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان اور ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی سے بھی ملاقات کریں گے۔

مزید پڑھیں:عفت عمر کیساتھ فیشن شو میں دلچسپ واقعہ، سوشل میڈیا پر ٹرولنگ کا نشانہ بن گئیں

انھوں نے کہا کہ تہران کا یہ دورہ جاری بحران اور گشیدگی میں شامل فریقوں کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کو فروغ دینے اور سفارتی حل کی حمایت کے لیے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے رُکن ممالک کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے، اور یہ اقدامات قطر اور پاکستان کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کی تائید میں کیے جا رہے ہیں۔