بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

دبئی نے سونا راہوں میں بچھا دیا، 24 قیراط سونے سے سیاحوں کے لیے گزرگاہ تیار

دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ(Dubai Gold District) نے دنیا کی سب سے طویل 24 قیراط سونے کی گزرگاہ تعمیر کرنے کا اعلان کیا ہے، جو آئندہ 2 ماہ کے اندر کھولی جائے گی۔ ادارے کے مطابق یہ اپنی نوعیت کی پہلی گزرگاہ ہو گی۔

گلف ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق یہ منصوبہ 2026 کے اختتام سے قبل مکمل کیا جائے گا اور دبئی کے سیاحتی تجربات کی فہرست میں ایک نئے پرکشش اضافے کی حیثیت رکھتا ہے۔

’2 ماہ میں افتتاح متوقع‘

دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کے کمرشل سیکٹر کے سینیئر ڈائریکٹر راشد الحرمودی کے مطابق گزرگاہ آئندہ 2 ماہ کے اندر عوام کے لیے کھول دی جائے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے کا مقصد زائرین کو منفرد تجربہ فراہم کرنا ہے، جبکہ اس کے ذریعے دبئی کی عالمی سطح پر سونے کی تجارت اور سیاحت کے مرکز کی حیثیت مزید مضبوط ہو گی۔

راشد الحرمودی نے یہ بات سونے کی بالیوں کے ریکارڈ کا اعلان کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ گزرگاہ کے ذریعے زائرین ڈسٹرکٹ کے اندر ’سنہری راستے‘ پر چلنے کا تجربہ کر سکیں گے۔

سونے کے زیورات میں ایک اور سنگِ میل

یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دبئی سونے کے زیورات سے متعلق ایک اور سنگِ میل کا جشن منا رہا ہے۔

دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کیا ہے؟

مجوزہ گزرگاہ دبئی گولڈ ڈسٹرکٹ کے وسیع تر منصوبوں کا حصہ ہے، جن کا مقصد سونے کی تجارت، جیولری ریٹیل اور سیاحتی تجربات کو ایک ہی مقام پر یکجا کرنا ہے۔

مزیدپڑھیں:انعامی بانڈز کی قرعہ اندازی گونگے اور بہرے بچوں سے کیوں کرائی جاتی ہے؟ اسٹیٹ بینک نے وجہ بتادی

دیرہ میں واقع اس ڈسٹرکٹ کا آغاز جنوری 2026 میں ہوا تھا۔ یہاں سونا، جیولری، بلین، ہول سیل تجارت اور سرمایہ کاری سے وابستہ کاروبار یکجا ہیں۔

دبئی میڈیا آفس کے مطابق ڈسٹرکٹ میں 1000 سے زیادہ تاجر موجود ہیں، جن کا تعلق سونا، جیولری، پرفیومری، کاسمیٹکس اور لائف اسٹائل مصنوعات سمیت مختلف شعبوں سے ہے۔

توسیعی منصوبے اور نمو

ڈسٹرکٹ میں سونے اور جیولری کی ایک تجارتی نمائش منعقد کرنے کا بھی منصوبہ ہے، جس کا ہدف مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی نمائش بننا ہے۔

کاروباری اداروں کے لیے مزید دفتری اور ریٹیل جگہ فراہم کرنے کے لیے توسیعی کام جاری ہے، تاکہ یہاں اپنی موجودگی قائم کرنے کے خواہش مند ادارے جگہ حاصل کر سکیں۔

راشد الحرمودی نے بتایا کہ سال کے آغاز سے اب تک ہول سیل گولڈ ٹریڈنگ دفاتر کے آغاز میں 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سونے، جیولری، قیمتی پتھروں اور لگژری گھڑیوں کے شعبے کی نئی دکانوں کی تعداد میں بھی 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ توسیعی منصوبوں کے جاری رہنے سے آئندہ ایک سال میں ڈسٹرکٹ منتقل ہونے والی کمپنیوں کی تعداد میں 10 سے 20 فیصد اضافے کی توقع ہے۔

ان کے مطابق سونے کی گزرگاہ ان کوششوں کو مزید تقویت دے گی، کیونکہ اس سے زیادہ سے زیادہ زائرین راغب ہوں گے اور دبئی کا اس قیمتی دھات سے دیرینہ تعلق مزید نمایاں ہو گا۔

دبئی طویل عرصے سے ‘سونے کے شہر’ کے طور پر معروف ہے اور دیرہ کا علاقہ اپنے روایتی گولڈ سوق کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں اور تاجروں کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ نیا ڈسٹرکٹ اسی روایت کو جدید سیاحتی اور تجارتی انداز میں آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔