وزیراعظم محمد شہباز شریف(Shehbaz Sharif) نے 27 اکتوبر ‘کشمیر یومِ سیاہ’ کے موقع پر اپنے پیغام میں اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مسلۂ کشمیر پر پاکستان کا موقف بالکل واضح، مستقل اور اصولی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ تنازع جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پرامن حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور استحکام کا قیام ممکن نہیں۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ‘کشمیر یومِ سیاہ’ کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا کہ اس غم انگیز اور تاریخی دن پر حکومتِ پاکستان اور پاکستانی قوم مقبوضہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتی ہے۔
پاکستان کی سفارتی و سیاسی حمایت کا اعادہ
وزیراعظم نے اس عزم کو دہرایا کہ پاکستان کشمیری عوام کو ان کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد میں اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت کی فراہمی جاری رکھے گا اور ہر قومی و بین الاقوامی فورم پر ان کے جائز حقوق کے لیے آواز بلند کرتا رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ 79 برس قبل بھارتی افواج سری نگر میں داخل ہوئی تھیں، جس سے جموں و کشمیر کی تاریخ کے ایک دردناک اور سیاہ باب کا آغاز ہوا، جس کا تاریک سایہ آج بھی اس خطے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس دن سے لے کر آج تک کشمیریوں کو ان کے بنیادی اور ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت سے محروم رکھا جا رہا ہے، جس کی ضمانت اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں دی گئی ہے۔
کشمیریوں کا ثبات اور بھارتی مظالم
وزیراعظم نے کہا کہ مقبوضہ وادی کے لوگوں نے بے پناہ مصائب، ستم اور جابرانہ اقدامات برداشت کیے ہیں، لیکن ان کے حوصلے، ہمت اور آزادی کے عزم میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کشمیریوں کی نسل در نسل دی جانے والی عظیم قربانیاں ان کے آزادی، وقار اور انصاف کے ساتھ جڑے رہنے کا ایک محکم ثبوت ہیں۔
شہباز شریف نے نشاندہی کی کہ بھارت مسلسل کشمیریوں کی جائز سیاسی آوازوں کو دبانے اور ان کی نمائندگی کرنے والی قیادت کو خاموش کرنے کی کوششیں کر رہا ہے۔ حریت رہنماؤں، کارکنوں اور انسانی حقوق کے محافظوں کو طویل عرصے تک قید رکھنا انتہائی تشویشناک ہے، جو عالمی برادری کی فوری توجہ اور بنیادی آزادیوں کے احترام کا تقاضا کرتا ہے۔
5 اگست 2019 کے یکطرفہ اقدامات پر عالمی تشویش
وزیراعظم نے مزید کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد سے بھارت نے مقبوضہ وادی میں یکطرفہ غیر قانونی اقدامات کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے، جس کے ساتھ بنیادی آزادیوں پر سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ علاقے کی سیاسی، قانونی اور آبادیاتی (ڈیموگرافک) ہیئت کو تبدیل کرنے کی ان کوششوں پر عالمی سطح پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ مطالبہ کیا ہے کہ ان اقدامات کا بین الاقوامی قوانین اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے تحت تدارک کیا جائے۔
پیغام کے اختتام پر وزیراعظم نے ان تمام کشمیری مردوں، خواتین اور بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جنہوں نے اپنے بنیادی حقوق کی خاطر عظیم قربانیاں دیں اور کہا کہ ان کی یادیں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ انہوں نے دعا کی کہ کشمیریوں کو ان کا مسلمہ حقِ خودارادیت ملے اور خطہ پائیدار امن، وقار اور سلامتی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔









