بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

عالمی منڈی میں دوسرے روز بھی خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی ریکارڈ

مشرق وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں اور امریکا ایران مذاکرات میں پیشرفت کی امید کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیتموں میں دوسرے روز بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔

مشرق وسطیٰ میں امن کی کوششوں کے لیے ایران میں چار ملکی بیٹھک کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی آنا شروع ہو گئی۔

آئل ڈاٹ کام کی رپورٹ کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت جو گزشتہ ہفتے 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی اب دوسرے روز بھی کمی کے بعد 114.85 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔

امریکی خام تیل ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) کی قیمت گزشتہ ہفتے 103 ڈالر پر پہنچ گئی تھی وہ بھی اب کم ہو کر 100.87 ڈالر فی بیرل پر آ گئی ہے۔

تہران میں سعودی عرب، ترکیہ، ایران اور پاکستان کے حکام کی جنگ کے خاتمے کے لیے ملاقاتوں کے باعث تیل کی قیمتوں پر دباؤ دیکھا گیا، تاہم اس دوران امریکی میڈیا سی این این کی اس رپورٹ نے قیمتوں میں مزید کمی کو محدود کردیا کہ امریکی افواج آئندہ 96 گھنٹوں کے اندر ایران پر حملہ کرسکتی ہیں۔

سعودی عرب کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حوثی حملوں اور آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں پر ایرانی حملوں کی اطلاعات نے خام تیل کی رسد متاثر ہونے کے خدشات برقرار رکھے ہیں، جس سے قیمتوں میں مزید کمی محدود رہی۔

توانائی کی تجزیہ کار سگندھا سچدیوا کے مطابق مغربی ایشیا میں نئی سفارتی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی امید پیدا ہوئی ہے، جس کے باعث کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں کمی سامنے آ رہی ہے۔

دوسری جانب سی این این کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حکم جاری کیے جانے کی صورت میں مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی افواج 96 گھنٹوں کے اندر ایران پر حملہ کرسکتی ہیں۔ اس رپورٹ نے سفارتی کوششوں کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کو محدود کر دیا۔

ایرانی صدر نے تہران میں سعودی عرب، ترکیہ اور پاکستان کے اعلیٰ سطح کے وفود کی میزبانی کے دوران اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ہوکر ایک قوت بنیں۔ تاہم خطے کے بیشتر خلیجی ممالک امریکا کے اتحادی ہیں، جس کے باعث علاقائی اتحاد کی کوششوں کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگ کے جلد خاتمے کے امکانات تاحال محدود دکھائی دیتے ہیں۔ عالمی توانائی ایجنسی نے بھی خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث عالمی توانائی کی فراہمی میں پیدا ہونے والی رکاوٹیں اگلے سال تک برقرار رہ سکتی ہیں۔

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں پر حملے کے تیل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھیں۔ اور حالیہ کمی کے باوجود خام تیل کی قیمتیں اب بھی بلند سطح پر ہیں۔

گزشتہ ہفتے آبنائے ہرمز کے قریب آئل ٹینکروں پر ایرانی حملوں کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی آئی تھی اور برینٹ خام تیل 117 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا تھا۔ اور یہ رواں سال اپریل کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔

مزید پڑھیں:کیلیفورنیا کے ساحلی علاقوں میں سیلاب کا شدید بحران، سمندر کی سطح ریکارڈ بلندی پر

خطے میں کشیدگی برقرار رہنے کی صورت میں تیل کی رسد متاثر ہونے اور قیمتوں میں دوبارہ اتار چڑھاؤ کا امکان موجود ہے۔