بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

 تائیوان میں چینی سیٹلائٹ تصاویر پر تشویش، فوج کا الرٹ جاری

بیجنگ :ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ‘ کی رپورٹ کے مطابق تائیوان نے چین کی جانب سے اپنے حساس عسکری مقامات کی جدید سیٹلائٹ تصاویر اور ویڈیو کلپس جاری ہونے کے بعد اپنی تمام افواج کو ہائی الرٹ کر دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ چینی سرکاری میڈیا نے تائیوان کے دفاعی اور انتظامی ڈھانچے پر نفسیاتی دباؤ بڑھانے کے لیے اپنے جدید سیٹلائٹ نیٹ ورک کی مدد سے حاصل کردہ واضح ویڈیوز کا کھلے عام استعمال کیا ہے۔

ماہرینِ دفاع کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر عام کمرشل سیٹلائٹس سے کہیں زیادہ جدید اور ہائی ریزولوشن ٹیکنالوجی کا پتہ دیتی ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پیپلز لبریشن آرمی (PLA) اب تائیوان کے کسی بھی کونے پر ریئل ٹائم (Real-time) نظر رکھنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ تائیوان کے عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، بیجنگ کا یہ اقدام محض تیکنیکی کامیابی کا مظاہرہ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ وہ تائیوان کی عسکری تنصیبات اور اہم تنظیمی عمارتوں کے اندرونی اور بیرونی ڈھانچے سے مکمل طور پر آگاہ ہو چکے ہیں۔

بیجنگ کی جانب سے اس نئی ڈیجیٹل اور خلائی یلغار کے جواب میں تائیوان کی وزارتِ دفاع نے فوری اور سخت ردِعمل جاری کیا ہے۔ تائیوان کی مسلح افواج نے اعلان کیا ہے کہ وہ فضائی حدود اور آبنائے تائیوان (Strait of Taiwan) میں کسی بھی ناگہانی خطرے سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ پر ہیں۔ ریڈار سسٹمز اور دفاعی بیٹریاں مزید فعال کر دی گئی ہیں۔

تائیوان اپنے اتحادی ممالک بالخصوص امریکہ کے ساتھ مل کر ان سیٹلائٹ سگنلز اور جاسوسی سرگرمیوں کے توڑ کے لیے نئے کاؤنٹر میچھےرز (Countermeasures) پر کام کر رہا ہے۔ تائیوان کی حکومت نے شہریوں کو یقین دلایا ہے کہ ریاست کی سلامتی پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی اور فوج کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

یہ تازہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب آبنائے تائیوان کے خطے میں پہلے ہی امریکہ اور چین کے درمیان عسکری مشقوں کی وجہ سے تناؤ عروج پر ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی اور جاپانی افواج کی مشترکہ مشقیں بھی اسی خطے میں جاری ہیں، جن کا مقصد پی ایل اے (PLA) کے بڑھتے ہوئے سمندری اور فضائی تسلط کو چیلنج کرنا ہے۔

چینی ماہرین کا ماننا ہے کہ خلاء سے تائیوان کی مسلسل مانیٹرنگ اس بات کا اشارہ ہے کہ بیجنگ کسی بھی ممکنہ بڑے عسکری تنازع یا ناکہ بندی (Blockade) کی صورت میں تائیوان کے مواصلاتی اور دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کی مکمل تیاری کر چکا ہے۔

بین الاقوامی سیاست اور دفاعی مبصرین اس صورتحال کو انتہائی خطرناک قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ روایتی جنگی ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ اب خلائی جنگ اورڈیجیٹل جاسوسی(Space-based Reconnaissance) جنگ کا فیصلہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔

ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کی اس رپورٹ نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا ہے کہ تائیوان کے گرد گھیرا تنگ ہوتا جا رہا ہے، اور آنے والے دنوں میں دونوں فریقین کے درمیان یہ ڈیجیٹل و عسکری رسہ کشی خطے کے امن کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی رہے گی۔ تائیوان کی قیادت کے لیے اب سب سے بڑا امتحان اس خلائی نگرانی کے نظام کو ناکارہ بنانا اور اپنی دفاعی راز داری کو برقرار رکھنا بن چکا ہے۔