یوگنڈا میں 15 سال کے دوران 38 افراد کو قتل کرکے ان کی لاشیں کھانے کے الزامات کا سامنا کرنے والے سیریل کلر کو گرفتار کرلیا گیا۔
ملزم کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا، تاہم وہ مبینہ طور پر رہا ہوگیا یا حراست سے نکلنے میں کامیاب رہا
برطانوی اخبار دی سن کے مطابق ملزم مجوریزی موسیٰ پر الزام ہے کہ اس نے 2010 سے 2025 کے دوران یوگنڈا کے اضلاع ماساکا، ایبانڈا اور کازو میں متعدد افراد کو قتل کیا اور ان کی باقیات کھائیں۔
یوگنڈا کی دفاعی افواج کے سربراہ جنرل موہوزی کینیرُوگابا نے ملزم کی گرفتاری کا اعلان کرتے ہوئے اسے ملک کی تاریخ کا بدترین قاتل اور آدم خور قرار دیا۔
ملزم پر الزام ہے کہ وہ ساتھیوں کی مدد سے گھروں میں داخل ہوتا اور اہل خانہ کو تیز دھار ہتھیاروں سے قتل کرتا تھا۔ بعض افراد کو مبینہ طور پر جعلی تعلقات کے ذریعے پھنسایا گیا جس کے بعد انہیں قتل کردیا گیا۔
تحقیقات کے مطابق ایک واقعے میں ملزم اور اس کے ساتھیوں پر پینٹی کوسٹل پادری اسٹیون موگامبے اور ان کے پورے خاندان کو قتل کرنے کا الزام بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملزم کو ماضی میں بھی کئی مرتبہ گرفتار کیا گیا، تاہم وہ مبینہ طور پر رہا ہوگیا یا حراست سے نکلنے میں کامیاب رہا۔
تازہ گرفتاری ایک مبینہ مقتول کے اہل خانہ کی جانب سے پولیس سے رابطہ کرنے کے بعد عمل میں آئی۔ پولیس نے ملزم کے گھر پر چھاپہ مار کر شواہد جمع کیے ہیں۔
تفتیشی حکام پرانے قتل کے مقدمات اور لاپتا افراد کے ریکارڈ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں تاکہ ممکنہ روابط کا پتا چلایا جاسکے۔
مزید پڑھیں:شاہ رخ خان کا عاشقانہ انداز، فلم ’کنگ‘ کا نیا پوسٹر جاری
جنرل کینیرُوگابا نے کہا ہے کہ ملزم کے خلاف کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا اور جرم ثابت ہونے پر اسے سزائے موت دی جائے گی۔









