بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پیٹرولیم لیوی، حکومت و جماعت اسلامی مشترکہ لائحہ عمل بنائینگی، اقبال احسن

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے جماعت اسلامی کے مطالبے کے تناظر میں حکومتی ریلیف اسکیم کا دائرہ بڑھانے پر غور کرنے کے لیے جماعت اسلامی اور حکومت کی مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔

وہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے، اس سے قبل جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی، جس میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنی جماعت کے مطالبات پر بات چیت کی گئی۔

ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ اگر حکومت نے نومبر کے وسط تک عوام کو کوئی بڑا ریلیف نہ دیا تو جماعت اسلامی پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد کی جانب مارچ کرے گی۔

احسن اقبال نے مشیر وزیراعظم برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ”وزیراعظم اور امیر جماعت اسلامی اس بات پرمتفق ہوئے کہ دونوں کا مقصد اورنیت ایک ہے یعنی وہ عوام کی مشکلات کم کرنا چاہتے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ ”تاہم اس مقصد کے لیے ہمیں ایسا راستہ اختیار کرنا ہوگا جو دیرپا، پائیداراورہمارے لیے قابلِ برداشت ہو۔“

احسن اقبال کے مطابق اس مقصد کے لیے دونوں رہنماؤں نے ایک کمیٹی تشکیل دینے پراتفاق کیا ہے، جس میں جماعت اسلامی کے تین ارکان اور حکومت کے تین نمائندے شامل ہوں گے، حکومتی نمائندوں میں وہ خود، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے سیاسی مشیر رانا ثنااللہ شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کمیٹی دو امور سے متعلق تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے مل کرکام کرے گی، پہلے یہ کہ حکومتی ریلیف اسکیم کا دائرہ کیسے بڑھایا جائے تاکہ زیادہ تعداد میں مستحق افراد اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ دوسرا یہ کہ آئندہ بجٹ میں لیوی مرحلہ وار ختم کرنے کے لیے ٹھوس تجاویز کیسے تیار کی جائیں۔

احسن اقبال نے امید ظاہر کی کہ کمیٹی ان معاملات پر مل کر کام کرے گی اورمسائل کا حل تلاش کرنے میں کامیاب ہوگی۔

اس کے ساتھ ہی انہوں نے تسلیم کیا کہ ہر سیاسی جماعت کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ خطے کی موجودہ صورتِ حال کے پیشِ نظر ضروری ہے کہ تمام فریق ملک میں امن اور اندرونی استحکام برقرار رکھیں۔

واضح رہے کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف رواں سال 16 اگست کو دھرنوں کا آغاز کیا تھا، جو ابتدا میں چاروں صوبوں کے مرکزی شہروں میں دیے گئے اور بعد ازاں ملک کے دیگر اضلاع تک پھیل گئے۔

جماعت اسلامی نے اس سلسلے میں 3 ستمبر کو ملک گیر ہڑتال کی جبکہ 20 ستمبر کواسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کیا، 22 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے بیرون ملک دورے سے واپسی پرجماعت اسلامی کی قیادت سے ملاقات کا وعدہ کرتے ہوئے لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی، جس پر جماعت اسلامی نے لانگ مارچ عارضی طور پر ملتوی کردیا تھا۔

مشترکہ پریس کانفرنس میں وفاقی مشیر رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں عوام کو پیٹرول پر ریلیف فراہم کرنے کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حکومت عام آدمی کو ریلیف دینے کے لیے مزید اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی بھی یہی سوچ ہے کہ عام آدمی کی مشکلات کم کی جائیں، اسی لیے حکومت جماعت اسلامی کی تجاویز کو اہمیت دیتی ہے، حکومت خلوص نیت کے ساتھ عوام کو مزید ریلیف فراہم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ وزیراعظم شہباز شریف اورفیلڈ مارشل ایران جنگ کے خاتمے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی کوششوں سے خطے میں امن کے لیے پیش رفت ہوئی ہے اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو پوری دنیا تسلیم کر رہی ہے۔

مزید پڑھیں:یوگنڈا میں 38 افراد کو قتل کرکے لاشیں کھانے والا آدم خور گرفتار

انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں پر زوردیا کہ وہ پاکستان کی سیاسی اورعسکری قیادت کے ہاتھ مضبوط کریں تاکہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اورعوام کو درپیش معاشی مشکلات کم کرنے کے لیے کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔