واشنگٹن / آکسفورڈ: آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک جامع اور اہم طبی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ داد یا شنگلز (Shingles) سے بچاؤ کے لیے استعمال ہونے والی جدید ترین ویکسین شنگرکس‘ (Shingrix) نہ صرف جلد کے اس تکلیف دہ اور خطرناک وائرل انفیکشن کو روکتی ہے، بلکہ یہ عمر رسیدہ افراد میں دل کی مختلف بیماریوں، ہارٹ فیلیر اور فالج کے خطرے کو بھی نمایاں طور پر کم کر سکتی ہے۔
سائنسی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ میں 2017ء میں پرانی لائیو ویکسین زوسٹاویکس (Zostavax) کے بجائے جدید ریکومبیننٹ ویکسین شنگرکس کا استعمال شروع کیے جانے کے بعد کیے جانے والے ایک طویل مطالعے سے ثابت ہوا ہے کہ اس ویکسین کے اثرات صرف جلد تک محدود نہیں بلکہ یہ نظامِ دورانِ خون اور دل کو بھی طویل المدتی تحفظ فراہم کرتی ہے۔
تحقیق کا نیا انداز اور ہیلتھی ویکسین بائس کا خاتمہ:
اس تحقیق کے اہم مصنف اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر میکسم ٹیکوے (Maxime Taquet) کے مطابق، اس سے قبل کی جانے والی تمام تحقیقات میں ایک بڑی خامی یہ تھی کہ ان میں ویکسین لگوانے والے افراد کا موازنہ ان افراد سے کیا جاتا تھا جنہوں نے کوئی ویکسین نہیں لگوائی تھی۔ اس طریقہ کار سے یہ طے کرنا مشکل ہو جاتا تھا کہ دل کو ملنے والا تحفظ خود ویکسین کی وجہ سے تھا یا اس کی وجہ یہ تھی کہ ویکسین لگوانے والے افراد عام طور پر اپنی صحت کا زیادہ خیال رکھتے ہیں، جسے طبی اصطلاح میںہیلتھی ویکسین بائس (Healthy-Vaccinee Bias) کہا جاتا ہے۔
اس خامی کو دور کرنے کے لیے سائنسدانوں نے ایک بالکل نیا طریقہ کار اپنایا۔ جب امریکہ نے 2017ء میں زوسٹاویکس ویکسین کو بند کر کے شنگرکس کا نفاذ کیا، تو سائنسدانوں کو دو مختلف ویکسینز کے درمیان تقابلی جائزہ لینے کا سنہری موقع ملا۔ محققین کی ٹیم نے 60 سال یا اس سے زائد عمر کے 36,460 افرادپر مشتمل دو بڑے گروہوں کا سات سال سے زیادہ عرصے تک باریک بینی سے معائنہ کیا، جن میں سے ایک گروپ کو پرانی اور دوسرے کو جدید ویکسین لگائی گئی تھی۔
تحقیق کے سنسنی خیز نتائج اور شماریاتی حقائق:
سات سال کے طویل مشاہدے کے بعد اعداد و شمار کا موازنہ کرتے ہوئے ایک واضح اور مثبت پیشرفت سامنے آئی۔ پرانی ویکسین (Zostavax) حاصل کرنے والے افراد کے مقابلے میں جدید ویکسین (Shingrix) لگوانے والے افراد میں دل کی صحت کی مجموعی صورتحال نمایاں طور پر بہتر پائی گئی۔
تحقیق کے بنیادی نتائج درج ذیل اہم نکات پر مشتمل ہیں:
اسکیمک ہارٹ ڈیزیز (Ischemic Heart Disease): جدید ویکسین لگوانے والے افراد میں دل کی شریانوں کی بیماری اور ہارٹ اٹیک کا امکان اوسطاً 10 فیصد کم دیکھا گیا۔
ہارٹ فیلیر (Heart Failure): جدید ویکسینیشن والے گروپ میں ہارٹ فیلیر کی شرح میں 12 فیصد کی واضح کمی ریکارڈ کی گئی۔
مجموعی کارڈیک تحفظ (Combined Risk): ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیلیر اور فالج (Stroke) کے مشترکہ مجموعی خطرے میں 9 فیصد کمی پائی گئی ہے۔
وقت کے ساتھ اثرات: پروفیسر ٹیکوے نے وضاحت کی کہ ویکسین کا دل کے لیے یہ حفاظتی اثر ابتدائی چند سالوں میں سب سے زیادہ مضبوط ہوتا ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ کم ہونے لگتا ہے۔
سڈارز-سنائِ میڈیکل سینٹر کے نامور ماہرِ قلب اور بیورلی ہلز انسٹی ٹیوٹ کے کلینیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر آرش بیریلیانی (Dr. Arash Bereliani) نے ان نتائج پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ 1 فیصد کا مطلق فرق ظاہری طور پر کم معلوم ہوتا ہے، لیکن جب ہم 50 ملین (پانچ کروڑ) خطرے سے دوچار امریکی شہریوں کی بات کرتے ہیں تو یہ 1 فیصد کی کمی بھی سینکڑوں اور ہزاروں افراد کو ہارٹ اٹیک، فالج اور ہارٹ فیلیر سے بچانے کے مترادف بن جاتی ہے۔
شنگلز ویکسین دل کو تحفظ کیسے فراہم کرتی ہے؟
اگرچہ دونوں ویکسینز شنگلز کی روک تھام میں بے حد موثر تھیں، لیکن صرف جدید ریکومبیننٹ ویکسین میں ہی دل کے فوائد دیکھے گئے۔ ماہرینِ قلب نے اس کی دو اہم ترین طبی اور سائنسی وجوہات پیش کی ہیں:
1. خصوصی بوسٹر عنصر (AS01B) اور سوزش میں کمی:
ٹیکساس اور مسیسپی میں پریکٹس کرنے والے ماہرِ قلب ڈاکٹر بھارت سنگانی (Dr. Bharat Sangani) کے مطابق، فارماسیوٹیکل کمپنی (GSK) کی تیار کردہ شنگرکس ویکسین کے اندر ایک خاص اینٹی باڈی بوسٹر مادّہ AS01B شامل ہے۔ یہ عنصر جسم کے اندر زہریلی سوزش اور سوجن (Inflammatory Response) کو پرسکون کرتا ہے اور سوزش پیدا کرنے والے مارکرIL-6کی مقدار کو کم کرتا ہے۔ شریانوں میں سوجن کی یہ کمی بالکل اسی طرح کام کرتی ہے جیسے دل کی سوجن کم کرنے والی ادویات (مثلاً کولچیسین) کام کرتی ہیں۔
2. خون کے لوتھڑے بننے (Thrombosis) کے خطرے سے بچاؤ:
ایریزونا کی ماہرِ قلب ڈاکٹر سیریشا وڈالی (Dr. Sirisha Vadali) کا کہنا ہے کہ شنگلز کا انفیکشن خود انسانی جسم میںپروتھرومبوٹک(Prothrombotic) ردِعمل پیدا کرتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ وائرس خون کی نالیوں میں خون جمنے اور لوتھڑے بننے کے عمل کو تیز کر دیتا ہے۔ اگر کسی شخص کی شریانیں پہلے سے قدرے تنگ ہوں تو شنگلز کا وائرس ان نالیوں کو بلاک کر کے اچانک کارڈیک ایونٹ یا فالج کا باعث بن سکتا ہے۔ جب شنگرکس ویکسین اس وائرس کو روکتی ہے تو یہ خود بخود خون کے لوتھڑے بننے کے اس عمل کا بھی سدِ باب کر دیتی ہے۔
ماہرین کی ہدایات، احتیاطی تدابیر اور سفارشات:
اگرچہ تحقیق کے نتائج انتہائی حوصلہ افزا ہیں، تاہم ماہرین نے سخت خبردار کیا ہے کہ اس مشاہداتی مطالعے (Observational Study) کو حتمی ثبوت یا بنیادی علاج نہیں سمجھنا چاہیے۔
طبی ماہرین کی مرکزی ہدایات درج ذیل ہیں:
ویکسین کی بنیادی وجہ: افراد کو شنگلز ویکسین صرف دل کے دورے سے بچنے کے لیے نہیں، بلکہ بنیادی طور پر شنگلز کے دردناک اور اذیت ناک جلد کے انفیکشن سے بچنے کے لیے لگوانی چاہیے۔ اگر یہ دل کو بھی تحفظ دیتی ہے تو یہ ایک زائد اور خوش آئند فائدے (Bonus) کی مانند ہے۔
بنیادی صحت مند عادات کا متبادل نہیں: ڈاکٹر وڈالی نے واضح کیا کہ شنگلز کی ویکسین تمباکو نوشی، غیر متوازن خوراک اور ورزش نہ کرنے کے منفی اثرات کو ختم نہیں کر سکتی۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنی بنیادی صحت مند عادات پر کاربند رہیں۔
ڈیمنشیا سے تحفظ:ڈاکٹر ٹیکوے کی ایک اور حالیہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ شنگرکس ویکسین بوڑھے افراد کو بھولنے کی بیماری یا ڈیمنشیا (Dementia) کے خطرے سے بھی بچاتی ہے۔
سی ڈی سی (CDC) کی سفارشات: امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن نے ہدایت کی ہے کہ 50 سال اور اس سے زائد عمر کے تمام افراد کو 2 سے 6 ماہ کے وقفے سےشنگرکس ویکسین کی دو خوراکیں لازمی لگوانی چاہئیں۔ وہ افراد جو ماضی میں پرانی ویکسین زوسٹاویکس لگوا چکے ہیں، وہ بھی نئی ویکسین حاصل کر سکتے ہیں۔









