بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

30 سال کی عمر کا طرزِ زندگی بڑھاپے کی صحتمندانہ زندگی کا ضامن، ماہرین کا انکشاف

نیویارک: کیلیفورنیا کےبک انسٹی ٹیوٹ فار ریسرچ آن ایجنگ اورمیو کلینک سے وابستہ طبی ماہرینِ عمر رسانی (Longevity Experts) کی ایک جدید تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق، 30 سے 40 سال کی عمر کے درمیان اپنایا جانے والا طرزِ زندگی انسان کی 70 سال یا اس سے زائد عمر کی صحت اور معذوری کا تعین کرتا ہے۔

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ 70 کی دہائی میں پہنچ کر مسلسل بیماریوں، پٹھوں کے زوال اور جسمانی معذوری کا شکار ہونا کوئی ناگزیر امر نہیں ہے، بلکہ اگر 30 کی دہائی میں ہی بنیادی جسمانی صلاحیتوں کو مضبوط کر لیا جائے تو 90 سال سے زائد عمر تک مکمل اور خود مختار زندگی گزاری جا سکتی ہے۔

جسمانی ذخیرے کی تعمیر اور ماسٹرز ایتھلیٹس کا نمونہ:
تحقیق کے مطابق، 30 کی دہائی میں انسان کی ہڈیوں کی کثافت، پٹھوں کا حجم اور مادۂ تبادلہ (Metabolism) قدرتی زوال کے ابتدائی مراحل سے گزرنا شروع ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ دہائی بلند ترین جسمانی ذخیرہ (Reserve Capacity) قائم کرنے کا آخری اور بہترین موقع ثابت ہوتی ہے۔

سائنسدانوں نے اس سلسلے میںماسٹرز ایتھلیٹس (35 سال سے زائد عمر کے کھلاڑی جو باقاعدہ کھیلوں میں حصہ لیتے رہتے ہیں) کے طرزِ عمل کی مثال دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 30 کی دہائی میں اعلیٰ ترین جسمانی تربیت حاصل کرنے والے افراد عمر بڑھنے کے باوجود معذوری سے محفوظ رہتے ہیں، کیونکہ ان کا بنیادی جسمانی ریکارڈ عام افراد کے مقابلے میں کہیں زیادہ مضبوط ہوتا ہے۔

بڑھاپے کی معذوری سے بچاؤ کے بنیادی اقدامات:
طبی ماہرین نے 70 سال سے زائد عمر میں بیماریوں اور گرنے کے خطرناک حوادث سے بچنے کے لیے 30 کی دہائی سے ہی درج ذیل 4 بنیادی اقدامات پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے:

1. دل کی گنجائش میں اضافہ (Aerobic Capacity): ہفتے میں 150 سے 180 منٹ تیز چلنا، سائیکلنگ یا سوئمنگ کرنا دل اور شریانوں کے نظام کو 70 کی دہائی میں فالج اور ہارٹ اٹیک سے محفوظ رکھتا ہے۔
2. وزن اٹھانے کی ورزشیں (Resistance Training): پٹھوں اور ہڈیوں کی کثافت کو برقرار رکھنے کے لیے ہفتے میں 2 سے 4 بار بھاری ورزشیں ضروری ہیں تاکہ بڑھاپے میں پٹھوں کے گھلنے (Sarcopenia) اور ہڈیوں کے بھربھرے پن کو روکا جا سکے۔

3. ٹانگوں اور جوڑوں کی چستی: 70 سال سے زائد افراد کے لیے سب سے بڑا خطرہ گرنا اور ہڈی کا ٹوٹنا ہوتا ہے۔ 30 کی دہائی سے ٹانگوں کے پٹھوں اور جوڑوں کی چستی بڑھانے سے چوٹ کے امکانات ختم ہو جاتے ہیں۔

4. نیند کا انتظام: 7 سے 9 گھنٹے کی پرسکون نیند رات کے وقت دماغ سے زہریلے مادوں کی صفائی کا کام کرتی ہے، جس سے بڑھاپے میں الژائمر اور بھولنے کی بیماری سے تحفّظ حاصل ہوتا ہے۔

غذائیت، میٹابولزم اور خلیاتی صحت کا تحفظ:
طبی ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ جسمانی ورزش کے ساتھ ساتھ 30 کی دہائی میں غذائیت کا درست انتخاب بھی بڑھاپے کے اثرات کو سست کرنے میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے۔ ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ اس عمر میں پروسیس شدہ غذاؤں، انتہائی میٹھے مشروبات اور الکحل کی مقدار کو کم سے کم کر کے پروٹین، وٹامن ڈی اور اینٹی آکسیڈنٹس پر مشتمل غذائیں استعمال کی جائیں۔

عمر کے اس مرحلے پر جسم میں سوزش (Inflammation) کو کنٹرول کرنا نہایت ضروری ہوتا ہے۔ خون کے سالانہ ٹیسٹ، جن میں شوگر، بلڈ پریشر اور پروٹین کی مقدار کی جانچ شامل ہے، 30 کی دہائی میں کروانے سے مستقبل میں دل کے امراض اور ذیابیطس کا خطرہ ٹل جاتا ہے اور خلیاتی سطح پر تباہی کا عمل رک جاتا ہے۔

دماغی صحت اور بحالی کا نظام:
عمر رسانی پر تحقیق کرنے والے سائنسدانوں کے مطابق دماغی اور اعصابی بیماریاں بھی اسی عمر سے جسم میں جڑ پکڑنا شروع کرتی ہیں۔ اس لیے 30 کی دہائی میں مسلسل نئی مہارتیں حاصل کرنا، جیسے نئی زبان سیکھنا یا کوئی موسیقی کا آلہ بجانا، دماغی خلیات کے درمیان نئے رابطے (Neural Pathways) قائم کرتا ہے۔

یہ اعصابی ذخیرہ بڑھاپے میں انسان کو ذہنی طور پر تیز رکھتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ روزمرہ کے شدید تناؤ (Stress) کو کم کرنے کی عادت اپنانا کورٹیسول ہارمون کی مقدار کو کنٹرول میں رکھتا ہے، جس سے نہ صرف پٹھے محفوظ رہتے ہیں بلکہ نیند کا معیار بھی بہتر ہوتا ہے۔

طویل المدتی فوائد اور معاشرتی اثرات:
تحقیق کا خلاصہ پیش کرتے ہوئے بک انسٹی ٹیوٹ کے صدر نے واضح کیا کہ 30 کی دہائی میں کی جانے والی یہ سرمایہ کاری بڑھاپے میں نہ صرف ادویات اور ہسپتالوں کے بھاری اخراجات سے بچاتی ہے بلکہ فرد کو 80 اور 90 سال کی عمر تک ایک باوقار اور خود مختار زندگی گزارنے کے قابل بناتی ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سائنسی اصولوں اور صحیح طرزِ زندگی کو ابتدائی عمر میں ہی اپنا لیا جائے تو عام انسان بھی بڑھاپے میں معذوری اور بیڈ ریڈن ہونے کے بجائے ایک طویل اور فعال زندگی باآسانی گزار سکتا ہے۔