اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے عالمی ادارے کے سربراہ رافیل گروسی(Rafael Mariano Grossi) نے کہا ہے کہ ایران کے 440 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا سراغ تاحال نہیں مل سکا تاہم جوہری تنصیبات کی مرمت یا بحالی کی کوئی علامت سامنے نہیں آئی۔
سلامتی کونسل کو بریفنگ دیتے ہوئے رافیل گروسی نے کہا امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد سے عالمی معائنہ کار ایران کی متاثرہ جوہری تنصیبات تک رسائی حاصل نہیں کر سکے جس کے باعث جوہری مواد کے ممکنہ انحراف کی تصدیق ممکن نہیں رہی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو جوہری مواد کی نگرانی سے متعلق اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی، عمان، پاکستان، قطر اور مصر ایران کے ساتھ مذاکرات کی بحالی کیلئے اہم سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔
افیل گروسی نے ایران اور ادارے کے درمیان 2025ء کے قاہرہ معاہدے پر دوبارہ عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے کہا کہ معائنہ کاروں کی واپسی اور جوہری تنصیبات کی تصدیق کیلئے سفارت کاری ناگزیر ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق کسی بھی پائیدار معاہدے کیلئے آئی اے ای اے کی مؤثر نگرانی ضروری ہے۔









