سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی بازاروں میں تازہ اور میٹھے امرود نظر آنے لگتے ہیں۔ وٹامن سی، فائبر اور دیگر غذائی اجزا سے بھرپور یہ پھل صحت کے لیے بھی انمول تحفہ مانا جاتا ہے لیکن شوگر کے مریض اکثر یہ سوچ کر اس سے پرہیز کرتے ہیں کہ کہیں امرود(Guava) کھانے سے ان کی بلڈ شوگر تو نہیں بڑھ جائے گی۔
ماہرینِ غذائیت کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کے مریض امرود کو بے جھجھک کھا سکتے ہیں بشرطیکہ وہ اس کے استعمال کے دوران چند اہم باتوں کا خیال رکھیں اور اس کے پتوں کو ضائع کرنے کی غلطی نہ کریں۔
امرود کے پتے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے کسی معجزے سے کم نہیں ہیں۔ ان پتوں میں خاص قسم کے پودوں کے مرکبات پائے جاتے ہیں جنہیں پولی فینولز کہا جاتا ہے اور ان میں کوئرسیٹن بھی شامل ہوتا ہے۔ یہ طاقتور اجزاء ان انزائمز کی کارکردگی کو دھیما کرتے ہیں جو غذا میں موجود کاربوہائیڈریٹ کو شکر میں بدلتے ہیں، جس کی وجہ سے کھانا کھانے کے بعد خون میں شوگر کی سطح اچانک بلند نہیں ہوتی۔
ایک جاپانی تحقیق میں بھی اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ امرود کے پتوں سے تیار کردہ قہوہ یا چائے پینے سے کھانے کے بعد بلڈ شوگر میں 20 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
مزیدپڑھیں: عمران خان کو عدالت سے عارضی ریلیف مل گیا
امرود کے پتوں کی چائے کیسے بنائیں؟
امرود کے پتوں کی چائے تیار کرنے کا طریقہ نہایت آسان ہے۔ اس مقصد کے لیے پانچ سے دس تازہ اور صاف پتے لے کر انہیں اچھی طرح دھو لیں اور پھر آدھا لیٹر پانی میں ہلکی آنچ پر چڑھا دیں۔ اس آمیزے کو دس سے پندره منٹ تک پکنے دیں یہاں تک کہ پانی مقدار میں آدھا رہ جائے۔ اس کے بعد اسے چھان کر گرم گرم پیا جا سکتا ہے لیکن اس بات کا خاص خیال رکھیں کہ اس میں چینی یا شہد ہرگز شامل نہ کیا جائے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریض یہ چائے دن میں دو بار پی سکتے ہیں تاہم اگر وہ کوئی دوائیں لے رہے ہیں تو اپنے ڈاکٹر کے مشورے کے بعد ہی اسے اپنے معمولات کا حصہ بنائیں۔
امرود کے چھلکے کو شوگر بڑھنے کی وجہ سمجھنا
امرود کھانے کے حوالے سے ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ اس کے چھلکے کو لازماً نقصان دہ سمجھ کر اتارنے کی ضرورت نہیں۔ امرود کے چھلکے میں بھی فائبر اور دیگر مفید اجزا ہوتے ہیں۔ یہ دعویٰ کہ پکے ہوئے امرود کا چھلکا خون میں شوگر کو لازماً اچانک بڑھا دیتا ہے، عمومی طور پر ثابت شدہ اصول نہیں ہے۔
بلڈ شوگر پر اثر کا انحصار امرود کی مقدار، اس کے پکنے کی حالت، مجموعی خوراک اور مریض کے جسم کے ردعمل پر ہوتا ہے۔ اس لیے صرف چھلکا اتارنے کو شوگر قابو میں رکھنے کا قابلِ اعتماد طریقہ نہیں سمجھنا چاہیے۔
ذیابیطس کے مریض صاف دھویا ہوا امرود چھلکے سمیت بھی کھا سکتے ہیں، بشرطیکہ اس کی مقدار ان کی خوراک اور شوگر کنٹرول کے مطابق ہو۔ اگر کسی شخص نے محسوس کیا ہے کہ امرود کھانے کے بعد اس کی شوگر زیادہ بڑھتی ہے تو وہ اپنے ڈاکٹر یا ماہر غذائیت کی مدد سے مقدار اور استعمال کے طریقے میں تبدیلی کر سکتا ہے۔
ذیابیطس کے مریض ایک وقت میں کتنا امرود کھائیں؟
امرود کھاتے وقت سب سے اہم چیز مقدار کا خیال رکھنا ہے۔ تقریباً 100 سے 150 گرام امرود بعض افراد کے لیے مناسب مقدار ہو سکتی ہے، لیکن یہ ہر مریض کے لیے یکساں اصول نہیں۔ روزانہ کاربوہائیڈریٹس کی ضرورت، ادویات، جسمانی سرگرمی اور بلڈ شوگر کی موجودہ کیفیت کے مطابق مقدار مختلف ہو سکتی ہے۔
پورا پھل کھانا عام طور پر جوس پینے سے بہتر انتخاب ہے، کیونکہ جوس بنانے سے فائبر کی مقدار کم ہو سکتی ہے اور ایک ہی وقت میں زیادہ پھل استعمال کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ امرود کے جوس میں چینی یا شہد شامل کرنے سے بھی گریز کرنا چاہیے۔
اس کے علاوہ امرود کو کسی متوازن غذا کا حصہ بنائیں اور اگر ڈاکٹر نے بلڈ شوگر کی نگرانی کا مشورہ دیا ہے تو پھل کھانے کے بعد اپنی شوگر بھی چیک کریں۔ اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ آپ کے جسم پر اس پھل کا کیا اثر پڑتا ہے۔
نوٹ: یہ معلومات عام آگاہی کے لیے ہیں۔ ذیابیطس کے علاج، ادویات یا خوراک میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنے معالج سے مشورہ کریں۔









