بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

نیتن یاہو کے پاس نگران وزیرِ اعظم کے طور پر ایران کے خلاف دوبارہ جنگ چھیڑنے کا اختیار ہے؟

اسرائیل (Israel)میں منگل کو ہونے والے قومی انتخابات کے غیر حتمی نتائج کے بعد ملک میں سیاسی معطلی کی فضا قائم ہو گئی ہے، تاہم قانونی و سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ نگران وزیراعظم کی حیثیت سے بنجمن نیتن یاہو کی حکومت اگرچہ کچھ آئینی پابندیوں کی زد میں رہے گی لیکن ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سمیت اہم دفاعی فیصلے کرنے کا ان کا قانونی اختیار برقرار رہے گا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق پارلیمنٹ کی 120 نشستوں کے لیے ہونے والے اس معرکے میں نہ تو بنجمن نیتن یاہو کا دائیں بازو کا اتحاد اور نہ ہی سابق فوج کے سربراہ گیڈی آئزن کوٹ کی قیادت میں قائم اپوزیشن بلاک اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب رہا ہے، جس کے بعد حکومت سازی کا عمل طویل اور پیچیدہ ہونے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔

اپوزیشن کے اہم رہنما گیڈی آئزن کوٹ نے تسلیم کیا کہ نیتن یاہو فی الحال نگران وزیراعظم کی حیثیت سے حکومت چلا رہے ہیں، لیکن ساتھ ہی خبردار کیا کہ وزیراعظم سیاسی مفادات کے حصول کے لیے سیکیورٹی اور دفاعی امور کا استعمال کر سکتے ہیں۔

تاہم، نیتن یاہو کے دفتر نے ان الزامات کو یکسر مسترد کر دیا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ تنازع کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

اسرائیل ڈیموکریسی انسٹی ٹیوٹ کے ریسرچ فیلو گائے لوری کے مطابق اگر اسرائیلی قانون کے متن کو دیکھا جائے تو ایک نگران حکومت کے پاس بھی وہی تمام اختیارات ہوتے ہیں جو ایک عام اور منتخب حکومت کے پاس ہوتے ہیں، تاہم ایک نگران حکومت پر بعض شعبوں میں احتیاط اور محدود حکمتِ عملی اپنانے کی اخلاقی و آئینی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔

مزیدپڑھیں:ایرانی حملے کا خدشہ؛ ایف بی آئی کے سابق عہدیدار کا امریکیوں کو گھروں میں 3 چیزیں لازمی رکھنے کا مشورہ

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ نے ماہرین کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ نگران حکومتوں کو کلیدی عہدوں پر تقرریوں جیسے معاملات میں پابندیوں کا سامنا ہوتا ہے، لیکن عوام کے وسیع تر مفاد اور قومی سلامتی سے جڑے امور میں اقدام کرنے کی قانونی گنجائش موجود رہتی ہے۔

تل ابیب میں قائم تخلیت انسٹی ٹیوٹ کے محقق اُور آشر کا کہنا ہے کہ عمومی طور پر سیکیورٹی کے امور اس پابندی سے واضح استثنا رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق اسرائیل کی سپریم کورٹ نے تاریخی طور پر یہ موقف برقرار رکھا ہے کہ نگران حکومت کو بہت زیادہ دور رس اثرات والے فیصلوں سے پرہیز کرنا چاہیے جب تک کہ کوئی شدید یا ایمرجنسی نوعیت کی ضرورت درپیش نہ ہو۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ سپریم کورٹ نے ماضی میں جنگ سے متعلق فیصلوں میں مداخلت کرنے سے گریز کیا ہے اور نئی پارلیمنٹ کے قیام کے ابتدائی ہفتوں میں جب تک پارلیمانی کمیٹیاں نہیں بن جاتیں، اس وقت تک پارلیمانی نگرانی بھی سب سے کمزور ہوتی ہے، اسی لیے نگران وزیراعظم قانونی طور پر اسرائیل کو ایران کے خلاف جنگ میں لے جا سکتا ہے۔

حتمی نتائج سامنے آنے کے بعد اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ تمام پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کا آغاز کریں گے اور اس کے بعد اس امیدوار کو حکومت سازی کی دعوت دیں گے دیکھیں گے کون اکثریت قائم کرنے کی سب سے بہتر صلاحیت رکھتا ہے۔

پھر اُس نامزد شخص کو ملک میں نئی حکومت قائم کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ 42 دن کی مہلت دی جائے گی، تاہم اس دوران نیتن یاہو نگران منصب پر فائز رہ کر تمام ضروری فیصلے کرنے کے مجاز ہوں گے۔