آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کے اہم اجلاس سے پہلے وفاقی حکومت نے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کی وصولی یقینی بنانے کے لیے قوانین میں سخت ترمیم کا فیصلہ کرلیا۔
پیٹرولیم لیوی ادا نہ کرنے پر 3 سال قید جبکہ بھاری جرمانے تجویز ہے۔ ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کے لائسنسز کی معطلی یا منسوخی بھی ہوگی۔ لیوی کی تاخیر پر کم از کم 12 فیصد سالانہ یا 6 ماہ کے کائبور ریٹ کا ڈیڑھ گنا بھاری سرچارج عائد ہوگا۔
پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی نہ دینے والوں کے خلاف شکنجہ مزید سخت ہوگا۔ آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد یقینی بنانے کیلئے حکومت نے اہم قدم اٹھا لیا۔ ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس سے پہلے پیٹرولیم لیوی اور کلائمیٹ سپورٹ لیوی کا قانون مزید سخت بنانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
دستاویز کے مطابق پیٹرولیم لیوی ادا نہ کرنے پر 3 سال قید یا بھاری جرمانے کی سزا ہو سکے گی۔ ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کے لیے لیوی کی ادائیگی اوگرا لائسنس کی شرط بن گئی۔ عدم ادائیگی پر لائسنس معطل یا منسوخ ہوں گے۔ جبکہ تاخیر سے ادائیگی پر بھاری سرچارج لگے گا۔
سرچارج کی شرح کم از کم 12 فیصد سالانہ یا 6 ماہ کےکائبورریٹ کا ڈیڑھ گنا تجویز ہے۔ پیٹرولیم لیوی ادا نہ کرنے والوں سے کسٹمز اور سیلز ٹیکس قوانین کے تحت رقم وصول کی جائے گی۔ اوگرا کو بھی خلاف ورزی پر کارروائی کا اختیار۔ پیٹرولیم لیوی ادا نہ کرنے پر لیوی کے برابر جرمانہ بھی ہو سکے گا۔
دستاویز کے مطابق لیوی کی عدم ادائیگی پر کمپنیز کے ڈائریکٹرز اور پارٹنرز بھی ذمہ دار ٹھہرائے جا سکتے ہیں۔ ریفائنریز اور آئل کمپنیوں کو ہر ماہ لیوی کی ادائیگی کی رپورٹ جمع کرانا ہوگی۔۔ آئل کمپنیوں کے لیے سالانہ آڈٹ شدہ سرٹیفکیٹ جمع کرانا لازم ہے۔
مزید پڑھیں: چین کا تائیوان کے گرد بحری گشت، تائی پے کا تعاقب کا اعلان
پیٹرولیم لیوی کی بروقت وصولی اور ریکوری یقینی بنانے کے لیے قانون میں سختی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نئی ترمیم کا مقصد حکومتی رقم کی وصولی اور شفافیت بہتر بنانا ہے۔









