بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جنوبی کوریا کی ٹک ٹاکر کی طلاق کی منفرد تقریب، تنازع کھڑا ہو گیا

سیول: جنوبی کوریا کی 37 سالہ سنگل مدر اور کنٹینٹ کری ایٹر چو سیونگ یون (Cho Seung-yeon) نے اپنی شادی کے خاتمے پر روایتی سوگ یا خاموشی کے بجائے باقاعدہ طلاق کی تقریب (Divorce Ceremony) منعقد کر کے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔

تقریب کا مقصد اور سماجی سوچ پر حملہ:
چو سیونگ یون نے طلاق کو ناکامی، شرمندگی یا المیے کے طور پر قبول کرنے کے بجائے اپنے قریب ترین دوستوں کو ایک جگہ جمع کیا تاکہ وہ اپنی ماضی کی شادی شدہ زندگی کے خاتمے اور زندگی کے ایک نئے باب کے آغاز کا جشن منا سکیں۔ ان کا موقف تھا کہ زندگی کی تبدیلیوں کو مثبت انداز میں قبول کیا جانا چاہیے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے سے بات کرتے ہوئے چو سیونگ یون نے اس منفرد تقریب کے انعقاد کی بنیادی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وہ مطلقہ خواتین (Divorcees) سے منسلک سماجی بدنامی اور منفی رویوں (Stigma) کا مقابلہ کرنا چاہتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس تقریب کا مقصد شادی کی حد بندیوں سے آگے نکل کر اپنی انفرادی شناخت کو دوبارہ حاصل کرنا اور خود کو بااختیار بنانا ہے۔

سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل اور آن لائن تنقید:
تخلیق کار کی جانب سے جب اس تقریب کی تصویریں اور ویڈیوز انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر شیئر کی گئیں تو انہیں شدید عوامی ردِعمل اور تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

جنوبی کوریا کے روایتی سماجی حلقوں اور آن لائن صارفین کی ایک بڑی تعداد نے ان کے اس قدم کو شادی کے مقدس رشتے کی تذلیل اور خاندانی اقدار کے منافی قرار دیا۔ اس شدید تنقید کے باوجود، چو سیونگ یون اپنے موقف پر قائم ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ خواتین کو طلاق کے بعد چھپنے کے بجائے سر اٹھا کر جینا چاہیے۔