سردیوں(Winter) کا موسم شروع ہوتے ہی بہت سے افراد نزلہ، زکام، کھانسی، گلے کی خراش اور بخار جیسی کیفیات میں مبتلا ہونے لگتے ہیں۔
بعض لوگوں کو ایک بیماری سے صحت یاب ہونے کے چند دن بعد ہی دوبارہ زکام یا کھانسی ہوجاتی ہے۔ اکثر لوگ اس کی وجہ صرف سردی یا کمزور قوت مدافعت کو سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت میں موسم کی تبدیلی کے ساتھ ہماری روزمرہ عادات اور ماحول بھی ان بیماریوں کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق سرد موسم میں گھروں اور دفاتر کے اندر زیادہ وقت گزارنا، کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنا، ہوا میں نمی کی کمی اور مختلف وائرسز کی سرگرمی بڑھنا ایسے عوامل ہیں جو سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔
بند کمروں میں وائرس تیزی سے پھیلتے ہیں
سردی سے بچنے کے لیے لوگ زیادہ تر وقت گھروں، دفاتر اور دیگر بند جگہوں پر گزارتے ہیں۔ اس دوران کھڑکیاں اور دروازے بند رکھنے سے تازہ ہوا کی آمدورفت کم ہوجاتی ہے۔
اگر کمرے میں موجود کوئی شخص کھانستا، چھینکتا یا بات کرتا ہے تو اس کے منہ اور ناک سے نکلنے والے باریک ذرات ہوا میں پھیل سکتے ہیں۔ مناسب ہوا کی آمدورفت نہ ہونے کی وجہ سے یہ ذرات زیادہ دیر تک کمرے میں موجود رہ سکتے ہیں اور دوسرے افراد کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:کراچی میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ، عوام مہنگی ایل پی جی خریدنے پر مجبور
اسی لیے سردیوں میں ایک ہی گھر یا دفتر میں کئی افراد میں یہ وائرس تیزی سے پھیلتا ہے۔
خشک ہوا ناک اور گلے کی قدرتی حفاظت کم کردیتی ہے
سرد موسم میں ہوا میں نمی کی مقدار کم ہوتی ہے، جس سے ناک، گلے اور سانس کی نالی میں خشکی پیدا ہونے لگتی ہے۔
درحقیقت ناک اور سانس کی نالی کے اندر ایک قدرتی حفاظتی تہہ موجود ہوتی ہے جو جراثیم اور وائرسز کو جسم میں داخل ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے۔ جب یہ تہہ خشک ہوجائے تو اس کی حفاظتی صلاحیت متاثر ہوسکتی ہے، جس سے وائرسز کے حملے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی وجہ سے سردیوں میں ناک بند ہونے، گلے میں خراش اور خشک کھانسی کی شکایات بھی عام ہوجاتی ہیں۔
ایک بیماری کے بعد دوبارہ زکام کیوں ہوتا ہے؟
سردیوں میں فلو، آر ایس وی اور عام نزلہ زکام کا سبب بننے والے مختلف وائرس زیادہ پھیل سکتے ہیں۔
ایک وائرس سے صحت یاب ہونے کے بعد ضروری نہیں کہ جسم کو دوسرے وائرس کے خلاف بھی تحفظ حاصل ہوجائے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص ایک قسم کے وائرس سے متاثر ہو کر صحت یاب ہوجائے تو وہ کچھ عرصے بعد کسی دوسری قسم کے وائرس کا شکار ہوسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بعض افراد کو سردیوں میں بار بار نزلہ، زکام اور گلے کی تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ہاتھوں کی صفائی میں لاپروائی بھی بیماری کی وجہ
روزمرہ زندگی میں ہم کئی ایسی چیزوں کو چھوتے ہیں جن پر جراثیم موجود ہوسکتے ہیں۔ دروازوں کے ہینڈل، موبائل فون، میزیں اور دیگر مشترکہ استعمال کی اشیا سے جراثیم ہاتھوں پر منتقل ہوسکتے ہیں۔
اگر ان ہاتھوں سے آنکھوں، ناک یا منہ کو چھو لیا جائے تو بعض وائرسز جسم میں داخل ہوسکتے ہیں۔
اس خطرے کو کم کرنے کے لیے کم از کم 20 سیکنڈ تک صابن اور پانی سے ہاتھ دھونا مفید ہے، خاص طور پر کھانے سے پہلے، باہر سے گھر آنے کے بعد اور کھانسنے یا چھینکنے کے بعد۔
سردیوں میں بیماریوں سے کیسے بچا جائے؟
سرد موسم میں صحت مند رہنے کے لیے چند بنیادی احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ گھر اور کمروں میں روزانہ کچھ وقت تازہ ہوا کی آمدورفت یقینی بنائیں، خاص طور پر اس وقت جب موسم اور فضائی آلودگی کی صورت حال اس کی اجازت دے۔
زیادہ رش والی بند جگہوں پر ماسک کا استعمال بھی سانس کے ذریعے پھیلنے والے وائرسز سے بچاؤ میں مدد دے سکتا ہے۔ اس کے علاوہ مناسب نیند لیں، متوازن غذا کھائیں اور دن بھر مناسب مقدار میں پانی پیتے رہیں۔
فلو کی ویکسین کے بارے میں بھی ڈاکٹر سے مشورہ کیا جاسکتا ہے۔ یہ موسمی انفلوئنزا کے شدید انفیکشن اور اس کی پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے، تاہم یہ عام نزلہ زکام سمیت تمام وائرسز سے تحفظ فراہم نہیں کرتی۔
کن علامات کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے؟
اگر کسی شخص کو بار بار انفیکشن ہو رہا ہو، کھانسی اور دیگر علامات کئی ہفتوں تک برقرار رہیں یا تیز بخار کے ساتھ سانس لینے میں دشواری اور غیر معمولی تھکاوٹ محسوس ہو تو اسے فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔
خاص طور پر سانس لینے میں شدید دشواری، سینے میں درد یا طبیعت تیزی سے بگڑنے کی صورت میں گھریلو علاج پر انحصار کرنے کے بجائے فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔
یاد رکھیں کہ سردیوں میں نزلہ، زکام اور گلے کی خراش عام ضرور ہیں، لیکن مناسب صفائی، تازہ ہوا، متوازن غذا، اچھی نیند اور بروقت احتیاط کے ذریعے ان بیماریوں کے پھیلاؤ اور شدت کو کم کیا جاسکتا ہے۔









