بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کا نیا ریکارڈ، 25 ہزار سے زائد رجسٹریشنز

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں اکتوبر 2026 کے دوران ریکارڈ 25 ہزار 747 نئے سرمایہ کاروں نے رجسٹریشن کرائی ہے جس کے بعد مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ 81 ہزار 965 ہوگئی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر میں نئے سرمایہ کاروں کی تعداد گزشتہ سال اسی ماہ کے مقابلے میں 66 فیصد زیادہ رہی جبکہ مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد میں سالانہ بنیادوں پر 56 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رواں سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران بھی اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی شمولیت کا رجحان برقرار رہا اور جنوری سے اکتوبر 2026 تک مجموعی طور پر 2 لاکھ 18 ہزار 894 نئے سرمایہ کار مارکیٹ کا حصہ بنے۔

اعداد و شمار کے مطابق صرف ان 10 ماہ میں شامل ہونے والے نئے سرمایہ کاروں کی تعداد گزشتہ چار سال کے دوران ہونے والے مجموعی اضافے سے بھی زیادہ ہے، جو پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں بڑھتی ہوئی دلچسپی اور سرمایہ کاروں کی شمولیت میں تیزی کو ظاہر کرتی ہے۔

نئے سرمایہ کاروں میں نوجوانوں کی اکثریت رہی، اکتوبر کے دوران اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہونے والے نئے سرمایہ کاروں میں 85 فیصد کا تعلق جنریشن زی (جین زی) اور جنریشن وائی (ملینیئلز) سے تھا۔

ماہرین کے مطابق نوجوانوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کی ایک اہم وجہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز ہیں، جنہوں نے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری تک رسائی کو پہلے سے زیادہ آسان بنا دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ اعداد و شمار 2026 کے دوران انفرادی سرمایہ کاروں کی مسلسل بڑھتی ہوئی شمولیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے قبل ستمبر میں بھی اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ 25 ہزار 281 نئے سرمایہ کار شامل ہوئے تھے، جس کے بعد اس ماہ کے اختتام پر مجموعی سرمایہ کاروں کی تعداد 6 لاکھ 56 ہزار 218 ہوگئی تھی۔

سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) بھی سرمایہ کاروں کی تعداد بڑھانے، مالیاتی شعور اجاگر کرنے اور ڈیجیٹل ذرائع سے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے کے لیے اصلاحات پر کام کر رہا ہے، بالخصوص نوجوانوں کو سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔

سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ زیادہ سے زیادہ افراد کی شمولیت سے سرمایہ کاری کے مواقع بڑھنے اور کاروباری اداروں کے لیے ملکی بچتوں کے ذریعے سرمایہ حاصل کرنے کی گنجائش میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

تاہم مارکیٹ ماہرین نے اس رجحان کو برقرار رکھنے کے لیے سرمایہ کاروں کی مالیاتی تعلیم، شفافیت اور ان کے مفادات کے تحفظ کو بھی ضروری قرار دیا ہے تاکہ مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے باوجود سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رہے۔

مزید پڑھیں:خیبرپختونخوا میں ٹرانسفارمر بیسڈ لوڈ مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ کا فیصلہ

دوسری جانب عالمی جدت طرازی انڈیکس 2026 میں پاکستان نے 139 معیشتوں میں چار درجے بہتری کے بعد 95ویں پوزیشن حاصل کرلی ہے۔