بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

13.5 ایکڑ سرکاری زمین، اربوں کی فروخت اور بے ضابطگیاں! گرینڈ حیات اسکینڈل میں بڑے نام سامنے آگئے

اسلام آباد ( ملک نجیب ) ون کنسٹی ٹیوشن ایونیو ( Grand Hyatt Tower ) اسکینڈل کی 22 صفحات پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (JIT) کی رپورٹ میں منصوبے کی نیلامی، زمین کی لیز، تعمیراتی منظوریوں، بینک گارنٹی اور اپارٹمنٹس کی فروخت میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔

رپورٹ میں سی ڈی اے کے سابق چیئرمین کامران لاشاری، سابق ڈائریکٹر اسٹاف ڈاکٹر فیصل اعوان، دیگر سابق افسران اور نجی کمپنی کے سربراہ عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ مالی بدعنوانی، اختیارات کے ناجائز استعمال اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے ۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

رپورٹ کے مطابق 13.5 ایکڑ اراضی پر فائیو اسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لیے شروع کیے گئے منصوبے میں نیلامی کے ابتدائی عمل کو مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر منسوخ کیا گیا، جبکہ دوسری مرتبہ اشتہار جاری کرنے اور منصوبے کی شرائط تبدیل کرنے کے لیے سی ڈی اے بورڈ کی مطلوبہ منظوری بھی حاصل نہیں کی گئی۔ جے آئی ٹی نے قرار دیا کہ تعمیراتی قواعد، ادائیگیوں کے طریقہ کار اور ترقیاتی شرائط میں تبدیلیاں مخصوص کمپنی کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئیں ۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ کامیاب بولی دہندہ بی این پی گروپ کے بجائے 28 جولائی 2005 کو بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ لیز ڈیڈ پر دستخط کیے گئے، جو نیلامی میں حصہ لینے والی اصل کمپنی سے مختلف ادارہ تھا۔ مزید یہ کہ لیز کی باقی 85 فیصد رقم کے مساوی ناقابلِ تنسیخ بینک گارنٹی جمع کرانا لازمی تھا، تاہم لیز ڈیڈ پر دستخط سے صرف 3 روز قبل سی ڈی اے کے قانونی مشیر کی رائے کے ذریعے یہ شرط ختم کردی گئی۔ جے آئی ٹی کے مطابق منصوبے کی منظوری کے وقت ہر ٹاور میں 60، مجموعی طور پر 120 سروسڈ اپارٹمنٹس تعمیر کرنے کی اجازت تھی، تاہم ڈویلپر نے دونوں ٹاورز میں 254 اپارٹمنٹس تعمیر کیے۔

مزیدپڑھیں:مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی ہار کی وجہ ایران جنگ ہے، جے ڈی وینس

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ سی ڈی اے نے نظرثانی شدہ نقشے کی منظوری نہیں دی تھی، اس کے باوجود تعمیراتی کام جاری رکھا گیا۔ رپورٹ میں سروسڈ اپارٹمنٹس کی فروخت اور ذیلی لیز کو بھی قواعد کے منافی قرار دیا گیا ہے۔ جے آئی ٹی کے مطابق یہ اپارٹمنٹس ہوٹل کا حصہ تھے اور انہیں فروخت کرنے کے بجائے طویل مدت کے لیے کرائے پر دیا جانا تھا۔ ڈویلپر کی جانب سے اپارٹمنٹس کی فروخت کے ذریعے مجموعی طور پر 9 ارب 45 کروڑ 81 لاکھ 50 ہزار 28 روپے وصول کیے گئے۔

اپارٹمنٹس کے خریداروں کی جانچ پڑتال کے لیے قائم ذیلی کمیٹی نے 254 اپارٹمنٹس کے معاملات کا جائزہ لیا۔ رپورٹ کے مطابق 205 خریداروں کو حقیقی خریدار قرار دیا گیا جبکہ 49 کے معاملات غیر تسلی بخش یا غیر حل شدہ قرار پائے۔ خریداروں کی جانب سے رقوم کی ادائیگی، ذرائع آمدن اور مالی لین دین کی تفصیلات کی جانچ کے لیے 244 نوٹس بھی جاری کیے گئے تھے۔

بینک آف پنجاب کی مالی معاونت سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا کہ بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ اور اس سے وابستہ افراد نے بینک سے ایک ارب 76 کروڑ 20 لاکھ روپے کی مالی سہولت حاصل کی، جو مارک اپ اور اضافی واجبات کے باعث بڑھ کر 2 ارب 92 کروڑ 20 لاکھ روپے ہوگئی۔ جے آئی ٹی نے بینک کی جانب سے مناسب ضمانت اور مالی جانچ پڑتال کے بغیر قرض فراہم کرنے پر بھی سوالات اٹھائے اور معاملہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو بھیجنے کی سفارش کی ۔

جے آئی ٹی نے سابق چیئرمین سی ڈی اے کامران لاشاری، ڈاکٹر فیصل اعوان، سابق مالیاتی مشیر و ممبر سی ڈی اے اظہر علی چوہدری، بریگیڈیئر نصرت اللہ، سابق ایڈیشنل لیگل ایڈوائزر رائے نواز خاں اور بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کے سربراہ عبدالحفیظ شیخ کو مبینہ بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال میں ذمہ دار قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان افراد کے اقدامات اور غفلت کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچا اور نجی کمپنی کو غیر معمولی فوائد حاصل ہوئے۔

سابق چیئرمین سی ڈی اے طاہر شہباز کے کردار کو غفلت پر مبنی قرار دیا گیا، تاہم جے آئی ٹی نے اسے بذات خود مجرمانہ فعل قرار نہیں دیا۔ رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ عبدالحفیظ شیخ اور بی این پی پرائیویٹ لمیٹڈ کو مستقبل کے سرکاری منصوبوں کے لیے بلیک لسٹ کرنے پر غور کیا جائے۔ منصوبے کی 13.5 ایکڑ اراضی اور تعمیر شدہ عمارتوں کو لیز کی طویل خلاف ورزیوں اور واجبات کی عدم ادائیگی کے تناظر میں شفاف مسابقتی عمل کے ذریعے دوبارہ نیلام کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

جے آئی ٹی نے حقیقی خریداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ان کی ادا کردہ اصل رقم واپس کرنے کی سفارش کی ہے۔ رقم کی واپسی کے لیے ذیلی لیز کی ادائیگی کی تاریخ سے کیبور شرح سود یا پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مہنگائی کے اشاریے کے مطابق منافع شامل کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سی ڈی اے اپنی قانونی اور ریگولیٹری ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہا، اس لیے حقیقی خریداروں کو نقصان سے دوچار نہیں چھوڑا جاسکتا۔ رپورٹ میں منصوبے کی عمارت کا تیسرے فریق سے ساختی معائنہ کرانے اور اسے رہائشی استعمال کے لیے ریگولرائز نہ کرنے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔ عمارت میں فائر فائٹنگ نظام، خودکار فائر الارم، اسموک ڈیٹیکٹرز، فائر ہائیڈرنٹس اور ہوز ریلز نصب کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے ۔
جے آئی ٹی نے سی ڈی اے کے قوانین، ماسٹر پلان، زمین کی الاٹمنٹ، لیز اور تعمیراتی منظوریوں کے نظام میں اصلاحات، ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن، تجارتی منصوبوں کے تیسرے فریق سے آڈٹ اور اختیارات کے صوابدیدی استعمال کو محدود کرنے کی سفارش کی ہے ۔
رپورٹ کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب) نے 2014 میں اس معاملے کی تحقیقات شروع کی تھیں، تاہم 2019 میں سپریم کورٹ کی جانب سے منصوبے کو ریگولرائز کرنے کے فیصلے کے بعد تحقیقات میں پیش رفت رک گئی۔ جے آئی ٹی نے سفارش کی ہے کہ اب مزید تاخیر کے بغیر تحقیقات مکمل کرکے 3 ماہ کے اندر احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا جائے تاکہ ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی آگے بڑھائی جاسکے۔