بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان اور روس کے درمیان بدعنوانی و منی لانڈرنگ کیخلاف اہم معاہدہ

ماسکو: پاکستان اور روس نے بدعنوانی، منی لانڈرنگ اور غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیے گئے اثاثوں کے خلاف تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیئے ہیں۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

معاہدے کے تحت دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے مالی جرائم کی روک تھام، بدعنوانی سے حاصل شدہ اثاثوں کی نشاندہی اور واپسی سمیت مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دیں گے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

روس کے دارالحکومت ماسکو میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ نذیر احمد اور روسی فیڈریشن کے پراسیکیوٹر جنرل الیگزینڈر گوتسان نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

اس اہم معاہدے کی تیاری کے سلسلے میں روسی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کی جانب سے ستمبر 2026 میں پاکستان کے قومی احتساب بیورو کو باضابطہ مراسلہ بھی ارسال کیا گیا تھا۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مراسلے میں بتایا گیا تھا کہ روسی پراسیکیوٹر جنرل کی ستمبر میں بین الاقوامی مصروفیات کے پیش نظر چیئرمین نیب نذیر احمد کے دورۂ ماسکو اور دونوں اداروں کے درمیان معاہدے پر دستخط کے لیے نومبر 2026 کا مہینہ تجویز کیا جا رہا ہے۔

Pak-China Friendship Hospital Islamabad - Ministry of Information and Broadcasting

مراسلے میں پاکستانی حکام سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ 7 ستمبر 2026 تک چیئرمین نیب کے دورے کے لیے موزوں تاریخوں سے آگاہ کریں تاکہ بین الادارہ معاہدے پر دستخط کی تیاریاں مکمل کی جا سکیں، روسی حکام نے اس موقع پر پاکستان کے ساتھ نتیجہ خیز تعاون جاری رکھنے کی امید کا بھی اظہار کیا تھا۔

روسی پراسیکیوٹر جنرل کے دفتر کے مطابق معاہدے کا مقصد دونوں ممالک کے انسداد بدعنوانی کے اداروں کے درمیان معلومات، تجربات اور پیشہ ورانہ مہارت کے تبادلے کے ذریعے مشترکہ تعاون کو مزید مؤثر بنانا ہے۔

مفاہمتی یادداشت کے تحت پاکستان اور روس بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کے لیے اپنے تجربات، قانونی طریقہ کار اور مؤثر عملی اقدامات کا تبادلہ کریں گے، دونوں ممالک کے متعلقہ ادارے فوجداری مقدمات میں باہمی قانونی معاونت، قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان روابط اور مالی جرائم سے متعلق قانونی امور پر مشاورت کو بھی فروغ دیں گے۔

معاہدے کا ایک اہم پہلو بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے حاصل کیے گئے غیر قانونی اثاثوں کی نشاندہی، ان کا سراغ لگانے اور واپسی کے لیے مشترکہ کوششیں کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے دونوں اداروں کے درمیان معلومات اور پیشہ ورانہ تجربات کے تبادلے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

پاکستانی سرکاری اعلامیے کے مطابق مفاہمتی یادداشت میں مشترکہ بین الاقوامی کانفرنسوں، ورکشاپس، اعلیٰ سطحی اجلاسوں، گول میز مباحثوں اور ماہرین کے باہمی دوروں کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے، اس کے علاوہ دونوں ممالک کے متعلقہ افسران کی پیشہ ورانہ تربیت، استعداد کار میں اضافے اور جدید تحقیق کے شعبوں میں تعاون کیا جائے گا۔

ماسکو میں ملاقات کے دوران روسی پراسیکیوٹر جنرل الیگزینڈر گوتسان نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تعاون پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات کا ایک اہم حصہ ہے۔

انہوں نے بدعنوانی کے خلاف مؤثر اقدامات کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کرپشن کی روک تھام پائیدار ریاستی ترقی، عوام کے اعتماد کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی اہم شرط ہے، ان کے مطابق یہ اہداف روس اور پاکستان دونوں کے لیے یکساں اہمیت رکھتے ہیں۔

معاہدے کے تحت نوجوان نسل میں بدعنوانی کے خلاف شعور بیدار کرنے، شفافیت اور احتساب کی اہمیت اجاگر کرنے اور انسداد بدعنوانی کے شعبے میں مشترکہ سائنسی و تحقیقی سرگرمیوں کے فروغ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

قومی احتساب بیورو کے مطابق اس مفاہمتی یادداشت سے پاکستان اور روس کے درمیان احتساب، شفافیت، قانون کی حکمرانی اور مالی جرائم کی روک تھام کے شعبوں میں ادارہ جاتی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ایک عملی فریم ورک فراہم ہوگا۔

مزید پڑھیں:سٹاک ایکسچینج میں شدیدمندی، 100 انڈیکس میں 1493 پوائنٹس کی کمی

دونوں ممالک کے متعلقہ اداروں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پیشہ ورانہ روابط کو وسعت دینے اور بدعنوانی کے خلاف بین الاقوامی کوششوں میں تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔