برازیل کے معروف فٹبال کلب سانتوس نے دنیا کے نامور اسٹار فٹبالر نیمار کے والد نیمار سینئر کو کلب کا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کر دیا ہے۔
ریو ڈی جنیرو: برازیل کے تاریخی اور مایہ ناز فٹبال کلب سانتوس نے انتظامی ڈھانچے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے اور کلب کے بزنس امور کو مضبوط بنانے کے لیے اہم فیصلہ کرتے ہوئے عالمی شہرت یافتہ اسٹار فٹبالر نیمار کے والد نیمار سینئر کو اپنا نیا چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) مقرر کرنے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے کے مطابق سانتوس کلب کی انتظامیہ نے جمعے کے روز اس تقرری کی سرکاری سطح پر تصدیق کی۔ اس موقع پر کلب کے صدر مارسیلو ٹیشیرا نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قوی امید ظاہر کی کہ نیمار سینئر کا عالمی اسپورٹس مارکیٹنگ کا وسیع تجربہ اور تجارتی صلاحیتیں سانتوس کو درپیش درپیش انتظامی و مالیاتی مسائل حل کرنے اور کلب کی کارکردگی کو نمایاں طور پر بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔
نیمار سینئر نہ صرف اپنے بیٹے کے پیشہ ورانہ کیریئر اور تمام مالیاتی معاہدوں کے انتظامی امور دیکھتے ہیں بلکہ وہ معروف ‘این آر اسپورٹس ایجنسی’ کے بانی اور سربراہ بھی ہیں، جس کے پاس نیمار جونیئر کے نام، برانڈ اور تصاویر کے تمام تر تجارتی حقوق محفوظ ہیں۔ برازیلی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ان کا موجودہ انتظامی معاہدہ رواں سال دسمبر تک برقرار رہے گا، تاہم اگر آئندہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں موجودہ صدر مارسیلو ٹیشیرا دوبارہ منتخب ہو جاتے ہیں تو نیمار سینئر اس عہدے پر مستقل طور پر اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔
کھیلوں کی دنیا میں سانتوس کلب کو اس وقت برازیلین سیری اے (Brazilian Série A) لیگ میں سخت چیلنجز کا سامنا ہے، جہاں ٹیم 34 میچز مکمل ہونے کے بعد 47 پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر نویں نمبر پر موجود ہے۔ انتظامیہ کو امید ہے کہ نچلی سطح سے لے کر اعلیٰ سطح تک کی جانے والی یہ تبدیلیاں ٹیم کے گراف کو اوپر لانے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
واضح رہے کہ اسٹار فٹبالر نیمار جونیئر یورپی فٹبال کے سرفہرست کلبوں—بارسلونا اور پیرس سینٹ جرمین (PSG)—کی طویل عرصے تک نمائندگی کرنے کے بعد 2025ء میں اپنے بچپن کے ہوم کلب سانتوس میں واپس آئے تھے۔ نیمار برازیل کی قومی ٹیم کی جانب سے 130 بین الاقوامی میچز میں 80 گول اسکور کر کے ملک کی تاریخ کے سب سے زیادہ گول کرنے والے آل ٹائم ٹاپ اسکورر ہیں، تاہم جولائی کے اختتام پر ناروے کے خلاف ورلڈ کپ کے پری کوارٹر فائنل میں شکست کے بعد ان کے انٹرنیشنل کیریئر کے بارے میں غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔








