امریکی انتخابات میں ایوانِ بالا (سینیٹ) میں پہلے مسلم امریکی سینیٹر منتخب ہونے والے عبدالالسید اور ایلینوائے کی ریاستی سینیٹ میں سب سے کم عمر سینیٹر بننے والی نبیلہ سید کے پس منظر، قومیت، کیریئر، روزگار اور سیاسی و سماجی اثر و رسوخ کی تفصیلی خبر سامنے آ گئی ہے۔
واشنگٹن / ڈیٹروئٹ: امریکی سیاسی تاریخ میں ایوانِ بالا (امریکی سینیٹ) اور ریاستی سینیٹ کی سطح پر تاریخی فتوحات حاصل کرنے والے دو مسلمان قانون سازوں—عبدالالسید (Abdul El-Sayed) اور نبیلہ سید (Nabeela Syed)—کا پس منظر، ان کا اصل وطن، پیشہ ورانہ شعبہ، امریکا میں اقامت کا عرصہ اور سیاسی و سماجی مقام کی تمام تفصیلی معلومات جاری کر دی گئی ہیں۔
1. عبدالالسید (Abdul El-Sayed): پہلے امریکی مسلمان وفاقی سینیٹر
اصل وطن اور امریکا میں اقامت: 42 سالہ عبدالالسید مصر (Egypt) سے تعلق رکھنے والے مہاجر والدین کے ہاں امریکی ریاست مشی گن کے شہر روچسٹر ہلز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین 1970ء کی دہائی میں مصر کے تاریخی شہر اسکندریہ سے ہجرت کر کے امریکا منتقل ہوئے تھے۔ عبدالالسید پیدائشی امریکی شہری ہیں اور ان کا خاندان 40 سال سے زائد عرصے سے امریکا میں مقیم ہے۔
روزگار اور پیشہ ورانہ شعبہ: عبدالالسید پیشے کے اعتبار سے معروف معالج (ایم ڈی)، وباؤں کے ماہر (Epidemiologist)، پبلک ہیلتھ کے پروفیسر اور مصنف ہیں۔ انہوں نے مشی گن یونیورسٹی، آکسفورڈ یونیورسٹی (جہاں سے روڈز اسکالر کے طور پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی) اور کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری مکمل کی۔ وہ پبلک ہیلتھ اور صحت کی پالیسیوں کے موضوع پر پوڈکاسٹ کی میزبانی کے ساتھ متعدد فلاحی و سائنسی اداروں سے منسلک رہے ہیں۔
سیاسی و سماجی مقام: وہ امریکی سیاسی حلقوں میں ایک ممتاز، دانشور اور بااثر ترقی پسند (Progressive) رہنما سمجھے جاتے ہیں۔ محض 30 برس کی عمر میں وہ ڈیٹروئٹ (Detroit) کے صحت کے شعبے کے کم عمر ترین ڈائریکٹر مقرر ہوئے۔ 2023ء میں وہ وِین کاؤنٹی کے ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ رہے، جبکہ ڈیموکریٹک پارٹی اور امریکی اقلیتی حلقوں میں ان کا بے حد احترام کیا جاتا ہے۔
2. نبیلہ سید (Nabeela Syed): ایلینوائے سینیٹ کی سب سے کم عمر مسلم سینیٹر
اصل وطن اور امریکا میں اقامت: 27 سالہ نبیلہ سید بھارت (India) کے شہر حیدرآباد سے ہجرت کر کے آنے والے مسلم والدین کے ہاں امریکی ریاست ایلینوائے کے علاقے پالیٹائن میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والدین 1980ء کی دہائی میں بھارت سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔ یوں ان کا خاندان تقریباً 40 سال سے امریکا میں آباد ہے اور نبیلہ سید پیدائشی امریکی شہری ہیں۔
روزگار اور پیشہ ورانہ شعبہ: نبیلہ سید پیشے کے لحاظ سے ڈیجیٹل سٹریٹیجسٹ، غیر منافع بخش (Non-Profit) آرگنائزر اور کمیونٹی اینالیست ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (برکلے) سے پولیٹیکل سائنس اور بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری حاصل کی۔ وہ تعلیمی، سول رائٹس اور صحت کے حقوق سے متعلق نان پرافٹ تنظیموں کے ابلاغیات کے شعبے سے منسلک رہی ہیں۔
سیاسی و سماجی مقام: 2022ء میں وہ محض 23 برس کی عمر میں ایلینوائے کے ایوانِ نمائندگان کی رکن منتخب ہو کر تاریخ کی سب سے کم عمر ساؤتھ ایشین اور مسلم نمائندہ بنی تھیں۔ ایلینوائے کی ریاستی سینیٹ (District 26) میں ریپبلکن سینیٹر کو شکست دینے کے بعد وہ ڈیموکریٹک پارٹی کا اہم چہرہ بن چکی ہیں۔ امریکی مسلم خواتین اور نوجوان نسل میں ان کا ایک مضبوط اور الہام بخش سماجی مقام ہے۔
امریکی سینیٹ میں تاریخی پیش رفت
امریکی آئین کے تحت قانون سازی کا نظام دو اہم ایوانوں پر مشتمل ہے:
1. ایوانِ نمائندگان (House of Representatives): جہاں پچھلی دو دہائیوں کے دوران مسلمانوں کو متعدد بار نمائندگی ملتی رہی ہے۔
2. امریکی سینیٹ (Senate): یہ امریکی سیاست کا سب سے طاقتور اور اعلیٰ ترین ایوان ہے، جہاں ہر ریاست سے صرف 2 سینیٹرز منتخب ہوتے ہیں۔ 248 برسوں سے کوئی بھی مسلمان رہنما اس ایوان تک نہیں پہنچ سکا تھا، لیکن اس بار یہ رکاوٹ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی ہے۔
امریکی کانگریس میں مسلمان قانون سازوں کا سفر
امریکی ایوانِ نمائندگان (ایوانِ زیریں) میں مسلم اراکین کی پیش قدمی دہائیوں سے جاری ہے، جن میں درج ذیل اہم شخصیات شامل ہیں:
کیتھ ایلیسن (Keith Ellison): 2006ء میں ریاست منیسوٹا سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ٹکٹ پر ایوانِ نمائندگان کے رکن منتخب ہوئے اور وہ امریکی تاریخ میں کسی بھی ایوانِ قانون سازی میں پہنچنے والے سب سے پہلے مسلمان تھے۔ انہوں نے 2007ء میں مقدس قرآن پر حلف اٹھایا تھا۔
آندرے کارسن (André Carson): کیتھ ایلیسن کے بعد 2008ء میں انڈیانا سے ایوانِ زیریں کے رکن بنے اور تاحال کانگریس کے اہم رکن ہیں۔
الہان عمر (Ilhan Omar): 2018ء میں منیسوٹا سے کامیابی حاصل کر کے ایوانِ نمائندگان میں پہنچیں اور وہ حجاب پہننے والی پہلی مسلم خاتون قانون ساز بنیں۔
رشیدہ طلیب (Rashida Tlaib): فلسطینی نژاد امریکی، جو 2018ء میں مشی گن سے انتخاب جیت کر ایوانِ نمائندگان میں داخل ہوئیں۔
اگرچہ ایوانِ نمائندگان میں مسلم نمائندگی پہلے سے موجود تھی، تاہم سینیٹ میں عبدالالسید اور نبیلہ سید جیسے مسلمان رہنماؤں کا داخلہ امریکی مسلمان کمیونٹی کے لیے سیاسی خودمختاری، سول رائٹس اور خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہونے کے لحاظ سے ایک نیا دور ثابت ہوگا۔








